ججزکےٹرانسفرکوغیرآئینی نہیں کہاجاسکتا ، سپریم کورٹ کا فیصلہ

02:15 PM, 19 Jun, 2025

نیوویب ڈیسک

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے ججز کے تبادلے اور سینیارٹی سے متعلق دائر اہم آئینی درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ججز کے تبادلوں کو آئین و قانون کے مطابق قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ججز کے تبادلوں کو غیر آئینی نہیں کہا جا سکتا۔

عدالت نے یہ فیصلہ تمام فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد سنایا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے سپریم کورٹ میں تین ججز کے اسلام آباد تبادلے کے خلاف آئینی درخواست دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ججز کے تبادلے سینیارٹی کے اصولوں کے خلاف ہیں اور عدالتی آزادی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس نعیم اختر افغان نے گزشتہ سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ "چودہ ججز کو چھوڑ کر پندرہویں نمبر پر موجود جج کا تبادلہ کیوں کیا گیا؟"۔ یہ سوال ججز کی سینیارٹی کے اصول پر اہم نکتہ بن کر سامنے آیا۔

تبادلہ پانے والے ججز میں جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محمد آصف اور جسٹس خادم حسین سومرو شامل ہیں، جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں بانی تحریک انصاف اور کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی فریق بنتے ہوئے الگ درخواستیں دائر کی تھیں، جنہیں یکجا کر کے سنا گیا۔

مزیدخبریں