ایران اسرائیل کشیدگی ۔۔۔۔آبنائے ہرمز کی بندش کا خدشہ، عالمی منڈی میں ہلچل ،اہم ترین آبی راستے کی سلامتی  کوخطرہ

04:07 PM, 19 Jun, 2025

تہران :ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی کشیدگی  بڑھتی جارہی ہے  اور اب خطے کا سب سے اہم تجارتی بحری راستہ آبنائے ہرمز  ممکنہ بندش کے خطرے کے تحت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔13 جون کو ایران کے جزوی طور پر تعمیر شدہ آرک ہیوی واٹر ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں تناؤ مزید بڑھ چکا ہے۔ ایران کی جانب سے عسکری ردعمل جاری ہے، جبکہ عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اس صورتحال میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑے گا۔آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک تنگ بحری راستہ ہے، جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی برآمد ہوتی ہے۔یہ راستہ ایران اور عمان کی سرحد پر واقع ہے، اور یہاں سے روزانہ 2 کروڑ سے زائد بیرل تیل بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔اس راستے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا انحصار ہے۔
کشیدگی کے بعد منڈیوں نے فوری ردِعمل دیا۔    برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد اضافے  سے  76.37 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔      امریکی خام تیل کی قیمت 75.01 ڈالر فی بیرل ہے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے جے پی مورگن کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو تیل کی قیمت 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب آبنائے ہرمز تناؤ کا مرکز بنی ہو۔1980 کی دہائی میں ایران ،عراق  جنگ  میں  اسی علاقے میں تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جسے تاریخ میں "ٹینکر وار" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔1988 میں امریکی بحری جہاز نے ایک ایرانی مسافر بردار طیارہ مار گرایا تھا، جس میں 290 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی ایک خطرناک مثال تھا۔
ایرانی وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ  "اسرائیلی حملوں سے تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں اور برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں۔تاہم، دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا آپشن موجود ہے۔
امریکہ کی بحریہ پہلے ہی بحرین میں موجود اپنے ففتھ فلیٹ کے ذریعے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو خطرہ ہوا تو عالمی سطح پر عسکری کارروائی بھی خارج از امکان نہیں۔

مزیدخبریں