پشاور: خیبرپختونخوا حکومت آج آئندہ مالی سال 27-2026 کا 2 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا ٹیکس فری بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم ریلیف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7،7 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بجٹ میں کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تجویز شامل نہیں کی گئی، جس کے باعث اسے ٹیکس فری بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 225 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ فنڈز تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر، آبپاشی، مقامی حکومتوں اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے صوبے کی معاشی ترقی کے لیے بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا یہ بجٹ آج صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اراکین اسمبلی بجٹ تجاویز پر بحث کریں گے اور منظوری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔