واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ موجود نہ ہوتے تو اسرائیل کو شدید نقصان یا ممکنہ طور پر مکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہیں، تاہم بعض اوقات انہیں قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے مطابق اسرائیل کئی فیصلے ان کی پالیسی کے مطابق کرتا ہے۔
انہوں نے ایران سے متعلق امریکی مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے کوئی قدم مایوسی میں نہیں اٹھایا بلکہ یہ عمل تہران کی جانب سے شروع ہوا۔ ان کے بقول ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور اسے کسی قسم کی مالی معاونت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں، اور اس کے پاس فضائیہ، بحریہ، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار جیسی بنیادی دفاعی صلاحیتیں موجود نہیں رہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ایران پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے، جو حقیقت سے دور بات ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والے یہ مذاکرات اب منعقد نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورۂ سوئٹزرلینڈ مؤخر ہونے کے بعد سامنے آیا۔
تاہم سوئس وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مختلف دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے سخت گیر حلقے حزب اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے مطالبے کر رہے ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے اور سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دے رہی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی افواج یا سرزمین پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور حزب اللہ کو اس کی “بھاری قیمت” ادا کرنا پڑے گی، تاہم ان کے بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال وہ جنگ کو مزید وسعت دینے سے احتیاط برت رہے ہیں۔