بیروت/واشنگٹن: لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق فریقین کے درمیان جمعہ کے روز سے جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد امریکا، قطر اور ایران کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں جانب سے لڑائی روکنے پر اتفاق کیا گیا۔ جنگ بندی ایسے وقت میں عمل میں آئی جب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان میں ہونے والی کارروائیوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں، کمانڈ مراکز اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائیوں کے دوران حزب اللہ سے وابستہ کئی جنگجو مارے گئے، جبکہ حزب اللہ نے بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی پوزیشنوں پر راکٹوں اور مارٹر گولوں سے حملوں کا دعویٰ کیا۔
کشیدگی کے دوران اسرائیل نے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق ایک ٹینک مشتبہ ڈرون یا اینٹی ٹینک میزائل کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔
ادھر سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مذاکرات بھی منسوخ کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق لبنان میں بگڑتی صورتحال نے سفارتی عمل کو متاثر کیا، جبکہ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ مکمل جنگ بندی کے بغیر مذاکراتی پیش رفت ممکن نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکا کو ان کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اپنی سرزمین اور فوجیوں پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کو اپنی کارروائیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں ضرورت پڑنے تک موجود رہے گی۔
اگرچہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے، تاہم خطے میں پائیدار امن کے امکانات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین اس معاہدے پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور آیا جاری سفارتی کوششیں مستقل استحکام کی راہ ہموار کر پاتی ہیں یا نہیں۔