اسلام آباد: پاکستان میں انکم ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے تنخواہ دار طبقہ ایک بار پھر سب سے آگے رہا ہے، جس نے ریٹیلرز، ہول سیلرز اور برآمد کنندگان جیسے بڑے کاروباری طبقات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں اس طبقے کی ٹیکس شراکت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق، جولائی سے فروری کے دوران تنخواہ دار افراد نے مجموعی طور پر 365 ارب روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا۔ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ رقم 332 ارب روپے تھی۔اس سال تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 ارب روپے زائد ٹیکس جمع کرایا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی جانب سے جمع کرایا گیا ٹیکس، ملک کے بڑے تجارتی شعبوں بشمول ریٹیلرز، ہول سیلرز اور ایکسپورٹرز سے وصول کیے گئے ٹیکس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی ریونیو میں اس طبقے کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ مسلسل بڑھا ہے۔ ٹیکس کی شرح میں اضافے اور تنخواہوں سے براہِ راست کٹوتی (Tax at Source) کے باعث اس طبقے کی قومی خزانے میں شراکت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو کہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں بڑے کاروباری طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں تنخواہ دار طبقہ اپنی محدود آمدن کے باوجود ملکی معیشت کو سہارا دینے میں سب سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
کاروباری طبقہ پیچھے، تنخواہ دار سب سے آگے؛ ایف بی آر نے ٹیکس ادائیگیوں کے اعداد و شمار جاری کر دیے
05:54 PM, 19 Mar, 2026