کرتارپور راہداری 9 روز سے بند، جنگ بندی کے باوجود بھارت کا خاموش رویہ

03:53 PM, 19 May, 2025

اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے باوجود کرتارپور راہداری گزشتہ 9 روز سے بند ہے، جس سے بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔

گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے ہیڈ گرنتھی سردار گوبند سنگھ نے اس بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے سکھ بھائیوں کے استقبال کے لیے ہر وقت تیار ہے، لیکن بھارت کی جانب سے راہداری بند کیے جانے کے باعث زائرین کو دربار صاحب کی یاترا سے روکا جا رہا ہے۔

سردار گوبند سنگھ نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ مذہبی مقامات کو سیاست سے دور رکھا جائے اور سکھوں کو کرتارپور آنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا:

    "عالمی جنگوں کے دوران بھی مذہبی مقامات کی یاترا پر پابندی نہیں لگائی گئی، کرتارپور راہداری کی بندش قابل افسوس ہے۔"

مقامی سکھ یاتریوں نے بھی بھارت کے اس اقدام پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ راہداری فوری طور پر کھولی جائے تاکہ زائرین دربار صاحب کے درشن کر سکیں۔

یاد رہے کہ کرتارپور راہداری سکھ برادری کے لیے ایک مقدس راستہ ہے جو پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع ہے اور بھارتی پنجاب کے گورداسپور سے براہِ راست گوردوارہ دربار صاحب تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان راہداری کا افتتاح نومبر 2019 میں ہوا تھا اور اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

مزیدخبریں