اسلام آباد :حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جب کہ درمیانے درجے کے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجویز پر بھی غور جاری ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، پلاننگ کمیشن، اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم کے حکام شریک ہیں۔
حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بجٹ میں نان فائلرز کے لیے گاڑی اور جائیداد کی خریداری پر پابندی سمیت دیگر سخت اقدامات شامل ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نان فائلرز مالیاتی لین دین میں محدود ہوں گے اور ان کے خلاف کمپلائنس سخت کی جائے گی۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ نئے بجٹ میں نان فائلرز کو مزید رعایت نہیں دی جائے گی بلکہ ان کی کیٹگری کو بتدریج ختم کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔
مذاکرات میں تجویز ہے کہ سالانہ 10 سے 12 لاکھ روپے آمدن والے افراد کو ٹیکس ریلیف ملے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر اس حوالے سے ریلیف پیکیج پر کام کر رہا ہے۔ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا کہ تاجر دوست سکیم اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی۔ تاہم غیر رجسٹرڈ دکانوں پر ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافے سے فائلرز کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، جسے کارپوریٹ ٹیکس یونٹس تک توسیع دی جائے گی۔آئی ایم ایف وفد 22 مئی تک اسلام آباد میں قیام کرے گا، جبکہ بجٹ تجاویز کو 23 مئی تک حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
نئے بجٹ پر مذاکرات: حکومت نے نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ دے دیا
04:50 PM, 19 May, 2025