طالبان رجیم کا ملک گیر ڈیجیٹل بلیک آؤٹ منصوبہ بے نقاب؛ تنقیدی آوازیں اور اختلافِ رائے دبانے کے لیے انٹرنیٹ بندش کا ہتھکنڈہ شروع

12:46 PM, 19 May, 2026


کابل : افغانستان میں طالبان رجیم کی جانب سے تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانے اور اختلافِ رائے کو بے دردی سے کچلنے کی ایک نئی اور منظم سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ پے در پے انتظامی ناکامیوں کا سامنا کرنے والی طالبان حکومت نے اب ملک گیر سطح پر "ڈیجیٹل بلیک آؤٹ" کا سہارا لے لیا ہے، جس کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروسز کو معطل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو شدید محدود کیا جا رہا ہے۔

ذرائع اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش اور ڈیجیٹل مواصلات پر عائد کی جانے والی حالیہ پابندیاں طالبان کے سنسرشپ ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

دفاعی و سیاسی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے  طالبان رجیم کی جانب سے انٹرنیٹ کو محدود کرنے کا بنیادی مقصد اپنی حکومت کی انتظامی ناکامیوں، ملک میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں اور معصوم شہریوں پر ہونے والے مظالم کو بیرونی دنیا سے چھپانا ہے تاکہ ان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے نہ آ سکے۔"

رپورٹ کے مطابق، اس ڈیجیٹل ناکہ بندی کے باعث جہاں افغان عوام اور صحافیوں کے لیے معلومات تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے، وہیں آزادانہ رائے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشنز نے طالبان کے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس بلیک آؤٹ کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں