تحریر: طارق وسیم
بنی اسرائیل دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جو سب سے زیادہ مرتبہ اجڑے اور پھر ابھرے ،ان کی تباہی اور ترقی کی داستان طویل اور دلچسپ ہے ،اسرائیل کے قیام کے بعد ہی سے ان کی کوشش رہی ہے کہ دنیا کہ تمام معاملات ان کے کنٹرول میں ہوں۔رپورٹ کے مطابق صلاحیتوں کی بات کی جائے تو شاید یہ دنیا میں سب سے بہتر ہیں ،13 لاکھ کے قریب یہودی اس دنیا کی 96 فیصد دولت کے مالک ہیں ،دنیا میں ہونے والی 80 فیصد سے زیادہ سائنسی ترقی یہودیوں کی مرہون منت ہے ،ان تمام باتوں کے باوجود ان میں دو ایسی علتیں ہیں، جو انہیں دنیا کو لیڈ کرنے سے روکتی ہیں ۔
پہلی ہے ان کا احساس تفاخر ،یہ دنیا میں خود کو سب سے برتر اور باقی تمام اقوام کو کمتر سمجھتے ہیں اور دوسری بزدلی ،یہ بہادر لوگ نہیں ہوتے ،یہودی اور ہندو دو ایسی اقوام ہیں ، جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ بزدل کہا جاتا ہے، ہندو جسمانی طور پر بھی کمزور ہیں، لیکن یہودی جسمانی طور پر دنیا کے تگڑے ترین لوگ ہوتے ہیں ۔
عراق میں بہنے والا دریائے فرات بھی یہودیوں کو ڈراتا رہتا ہے ،فرات کو جنت کا دریا کہا جاتا ہے ،اس کے بارے میں انجیل میں لکھا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب فرات خشک ہو جائے گا ،تب ایک شیطان ، بنی اسرائیل کومغلوب کر لے گا،اسرائیل کی ناجائز ریاست کے قیام سے لے کر اب تک وہاں کے حکمرانوں کی کوشش رہی ہے کہ دریائے فرات بہتا رہے اس میں پانی کم نہ ہو ،حالانکہ اس دریا کا براہ راست ان سے کوئی تعلق بھی نہیں ،لیکن خوف ہر قسم کا تعلق بنا دیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق تین دہائیوں سےدریائے فرات میں پانی کی مقدار اور اس کا لیول مسلسل کم ہو رہا ہے،اب تک دریا 3 فٹ سے زیادہ خشک ہو چکا ہے ،بین الاقوامی جیو لوجیکل سروے کے مطابق 2040 تک دریائے فرات مکمل خشک اور بنجر ہو سکتا ہے ، لیکن جس تیزی سے اس دریا کا پانی کم ہو رہا ہے ہو سکتا ہے یہ 2036 تک ہی مکمل بے آب و گیاہ ہو جائے۔
اسرائیل کے لیے وہ وقت کسی تازیانے سے کم نہیں ہوگا ،یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو اور اس کی ٹیم سارے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ،اس خطے کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو حمورابی کے دور میں یہ علاقہ وادی جنین کہلاتا تھا ،جس میں شام ،مصر، عراق ، فلسطین اور وہ علاقہ جہاں آج اسرائیل موجود ہے شامل تھا ، وادی جنین کے باسی دریائے دجلہ ،فرات اور نیل کے پانیوں کی خوبصورت تہذیب کے امین تھے ہر جانب امن تھا ،پیار تھا اور ترقی تھی،حمورابی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جن و انس ،چرند پرند درندوں اور دیگر زندہ اجسام حتیٰ کہ درختوں کا بھی بادشاہ تھا اور وہ سب اس کی ریاعا تھی،جن کی بولی بھی صرف حمورابی سمجھتا تھا ،اس عظیم بادشاہ نے بھی اپنا دار الخلافہ اسی علاقے کو بنایا تھا جہاں سے دریائے فرات گزرتا ہے ہے یعنی عراق یا ماضی کا میسو پوٹیما ،بابل کے باغات بنانے والا بخت النصر بھی دریائے فرات کے کنارے ہی حکمران تھا ،اور بابل کے باغات کی آبیاری بھی فرات کے پانی ہی سے ہوتی تھی ،گزشتہ 20 ہزار سال سے دریائے فرات خشک نہیں ہوا اور یہ بنی اسرائیل سے کئی گنا زیادہ طاقتور ترقی یافتہ اور انسان دوست تہذیبوں کا وارث ہے، تو کیا اب یہ دریا خشک ہوجائے گا ،بظاہر ایسا ہونا مشکل ہے لیکن اگر پوری زمین ہی کسی موسمیاتی تبدیلی کی نذر ہو گئی تو پھر دریائے فرات ہو یا نیل ،سندھ ہو یا ایمیزون بچے گا کچھ بھی نہیں ،پھر اسرائیلیوں کو غرقد کے درخت بچا پائیں گے نہ بن گوریان ایئر پورٹ کے پاس موجود باب لد کا علاقہ ، اور اگر خدا نے اس دنیا کو مزید چلانا ہے تو فرات بھی بہتا رہے گا ،دنیا چلتی رہے گی ،اسرائیل کبھی اس زمین کا لیڈر نہیں بن سکے گا ،ہاں کبھی فرات کے پانی سے خوف زدہ رہے گا تو کبھی مشرق کی جانب سے آنے والے لشکروں سے خوفزدہ رہے گا۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔