ایران پر حملے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، جہاز تیار تھے: ڈونلڈ ٹرمپ

09:28 PM, 19 May, 2026

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی سفارتی اور فوجی محاذ پر ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز امریکا ایران پر بڑا حملہ کرنے والا تھا اور ہم اس فوجی کارروائی سے محض ایک گھنٹہ دور تھے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکی بحری جہازوں کو حملے کے لیے مکمل طور پر لوڈ کر کے اسٹارٹ پوزیشن پر لے جایا جا چکا تھا، تاہم آخری لمحات میں ایران کی جانب سے معاہدے کی شدید خواہش اور مہلت مانگے جانے پر حملے کا فیصلہ مؤخر کیا گیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایران کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور تہران انتظامیہ امریکا کے ساتھ ڈیل کی کوششیں کر رہی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دنیا کے کئی اہم رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر ان سے رابطہ کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی علاقائی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران پچھلے 47 سال سے مشرقِ وسطیٰ کو ہراساں کر رہا ہے اور وہ خطے میں تباہی پھیلانا چاہتا ہے، لیکن امریکا ایسا نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں دہرایا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ایران کا ایٹمی طاقت بننا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگرچہ اس وقت امید ہے کہ مزید فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا؛ اگر ضرورت پڑی تو ایران پر ایک اور طاقتور حملہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس ایران کے ساتھ ان مذاکرات کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لاطینی امریکی ملک کا ذکر کرتے ہوئے کیوبا کو ایک ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہ بھی اس وقت امریکا سے امداد کا طلبگار ہے۔

مزیدخبریں