جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیم میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی، پچ کے مطابق فائنل الیون کا انتخاب کیا جائے گا ، اظہر محمود

02:20 PM, 19 Oct, 2025

راولپنڈی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ، اظہر محمود نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیم میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی، اور پچ کے مطابق فائنل الیون کا انتخاب کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران اظہر محمود نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پچز کا جائزہ لے کر حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بنائی گئی پچز سے یہ پچز مختلف ہیں، اور اگر ٹاس ہار بھی گیا تو ٹیم کی کوشش ہوگی کہ پہلی اننگز میں 350 رنز سے زائد سکور کریں۔

کوچ کا کہنا تھا کہ سیریز سے پہلے لگائے گئے کیمپ کا مقصد یہ تھا کہ کھلاڑیوں کو سپن گیندبازی کے خلاف بہترین حکمت عملی سکھائی جائے، اور انہیں مختلف شارٹس کھیلنے کی تربیت دی جائے۔ اظہر محمود نے بتایا کہ اس طرح کی پچز پر کھیلنے کے لئے سپن کھیلنے کی مہارت ضروری ہے۔

بلے بازوں کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اظہر محمود نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بلے بازوں نے اچھا کھیل دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ "سبھی بلے بازوں نے اپنی پرفارمنس دکھائی، اور پہلی اننگز میں چار اور دوسری اننگز میں تین بیٹرز نے رنز کیے۔" تاہم، انہوں نے لوئر آرڈر کی ناکامی پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جنوبی افریقہ کے آخری چار کھلاڑیوں کی 90 رنز کی اہم اننگز کا ذکر کرتے ہوئے اظہر محمود نے کہا کہ لوئر آرڈر کے رنز بھی میچ میں اہمیت رکھتے ہیں۔

فاسٹ باؤلرز کے حوالے سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے اظہر محمود نے کہا کہ لاہور کی پچ پر بیٹرز کو بھی مدد مل رہی تھی، اور اسی لیے ممکن ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں تین سپنرز اور ایک فاسٹ باؤلر کا کمبی نیشن آزمایا جائے۔

اظہر محمود نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ہوم گراﺅنڈ پر چھ ٹیسٹ میچز کھیلنا ایک اہم موقع ہے، اور ان کا مقصد ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کا مورال بلند ہے اور کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں۔

کوچ نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معیاری سپنرز کی کمی کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ٹیم میں سپنرز کی کمی تھی، نہ کہ پاکستان میں سپنرز کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل کے دس سپنرز کے بارے میں گنوا سکتے ہیں۔

مزیدخبریں