پاکستان اور افغانستان کا تاریخی جنگ بندی معاہدہ: امن کی جانب ایک اور قدم

08:50 PM, 19 Oct, 2025

تحریر : مشال ملک

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت کا باعث بن رہا ہے بلکہ یہ خطے میں امن و سکون کے قیام کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے۔ اس معاہدے پر دوحہ، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اتفاق کیا گیا، جس میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے اور اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فوراً بند ہوگا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس جنگ بندی معاہدے کے مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئے، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی۔ یہ مذاکرات تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہے، جس دوران دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ ملاقاتوں کا فیصلہ بھی کیا گیا، جن میں مزید تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن کا قیام ہے بلکہ یہ خطے میں استحکام کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے سے سرحدی کشیدگی میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے، جو کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی اور مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔


وزیر دفاع خواجہ آصف نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے قطر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعلان کیا کہ 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ ملاقات ہوگی، جہاں دونوں ممالک دیگر اہم مسائل پر بات کریں گے۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی اقدام ہے، جو علاقے میں پائیدار امن کے قیام کی طرف ایک قدم ہے۔

اس معاہدے کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کے لیے یہ پیش رفت خاصی مایوس کن ہو سکتی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس معاہدے کے ذریعے بھارت کی یہ سازش ناکام ہو گئی ہے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنی مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، اور افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


قطر کے انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوا، جس میں پاکستانی سکیورٹی حکام نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی معاونت کی۔ افغان وفد میں وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور انٹیلی جنس حکام نے بھی اس بات چیت میں شرکت کی۔ اس بات چیت میں دونوں ممالک نے اپنی اسٹریٹجک ضروریات اور مشترکہ چیلنجز کو زیرِ بحث لایا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی بجائے تعاون کی فضا ہونی چاہیے۔


اس معاہدے کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی روک تھام سے نہ صرف پاکستان کا امن مستحکم ہو گا بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں بھی ایک نئی طاقت ملے گی۔ اس معاہدے سے عالمی سطح پر یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اور افغانستان اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک نیا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک نے اپنے تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے اور باہمی احترام کی بنیاد پر ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی سیاسی اور سفارتی سطح پر بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں امن و سکون کا قیام بھی ممکن ہو سکے گا۔ اگر دونوں ممالک اس معاہدے پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک اہم اور مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

 
پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ معاہدہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت ہے جس کا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک نے اپنی خارجہ پالیسی میں سنجیدگی اور تعاون کی بنیاد رکھی ہے، جس سے عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

مشال ملک، کمیونیکیشن اسٹڈیز کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک ورکنگ جرنلسٹ ہیں۔ وہ مختلف ویب سائٹس اور بلاگز کے لیے سماجی، سیاسی، خواتین اور کھیلوں سے متعلق موضوعات پر گہرائی سے تجزیہ اور تحریر کرتی رہتی ہیں۔ مشال نہ صرف اردو زبان میں بلکہ انگریزی میں بھی مہارت کے ساتھ تحریر کرتی ہیں، جس کی بدولت ان کی تحریریں وسیع تر قارئین تک پہنچتی ہیں۔ ان کی تحریریں اپنے موضوعات کی حساسیت اور حقائق کی عکاسی کی وجہ سے قارئین میں خاصی مقبول ہیں اور وہ مسائل کی روشنی میں تبدیلی کی کوشش میں مصروف رہتی ہیں۔

مزیدخبریں