کردار کی بلندی، پونے تین کروڑ کا ثبوت اور فٹ پاتھ والا تماشہ

05:12 PM, 19 Sep, 2026

تحریر : حافظ سید عاصم علی 

لاجواب قیادت آسمان سے نہیں اترتی، کردار کی بلندی کو چھونے کے لیے بہت بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ایمانداری کی مثالیں قائم کرنی پڑتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی حکمران اپنی عوام کے لیے ایک درخشاں مثال ہوتا ہے۔ عوام اپنے لیڈر کی عادات و خصائل کو اپناتے ہیں، اپنے لیڈر کو فالو کرتے ہیں، اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
اگر لیڈر ایماندار ہو تو قوم ایماندار بنتی ہے۔ اگر لیڈر باکردار ہو تو قوم کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ اور اگر لیڈر ہی  اپنی ذات اور صرف اپنے مفاد کے لیے ہو تو وہ ہمیشہ عوام میں غیر مقبول، ناپسندیدہ اور تماشہ بن جاتا ہے۔
پاکستان میں آج ان دونوں طرح کی  طرزِ قیادت کی واضح مثال موجود ہے۔
ایک طرف صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف ہیں، جن کے وقار، عظمت اور خودداری کی مثالیں آج پوری دنیا دے رہی ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا کا وہ وزیرِ اعلیٰ ہے جو لاہور کی سڑکوں پر سرعام پھر رہا ہوتا ہے تو کوئی بھی اسے پہچانتا تک نہیں۔ موصوف کو چیخ چیخ کر لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ہوں۔  یہ وہی شخص ہے جو سٹریٹ موومنٹ کے نام پر کروڑوں روپے کا خرد برد کرچکا ہے۔ کسی انتشاری ٹولے نے تو نہیں پوچھا، لیکن جب ایک سچے صحافی نے سوال پوچھنے کی جسارت کی تو وزیرِ اعلیٰ کے گارڈز نے اسے زدوکوب کیا، یہاں تک کہ اس کے کیمرے توڑ دیے۔ یہ ہے ان کی جمہوریت، یہ ہے ان کی صادق و امین  بننے کی ڈرامے بازی ۔ 
ذرا اس کے برعکس دوسری تصویر دیکھیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا حالیہ دورہ۔ مخالفین نے حسبِ عادت شور مچایا، جہاز کا خرچہ، دورے کا خرچہ۔ لیکن انہیں کیا معلوم کہ کردار  کا غازی کیا ہوتا ہے؟۔زمانہ قدیم میں خلیفہ وقت اپنے ذاتی اخراجات بیت المال سے نہیں لیتا تھا، وہ اپنے اخراجات خود ادا کرتا تھا۔ آج اسی روشن مثال کو مریم نواز شریف نے زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے نسبتاً نجی دورے کے تمام تر اخراجات، جن کی مالیت تقریباً پونے تین کروڑ روپے بنتی ہے، اپنی جیب سے ادا کر دیے ہیں۔ سرکاری خزانے سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔
یہ خبر بذاتِ خود ایک طمانچہ ہے ان تمام لوگوں کے منہ پر جو دن رات کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں۔ جو دن رات پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں اور ملک توڑنے کے لیے متعصبانہ چالوں سے باز نہیں آتے۔ 
سوچیں، ایک وزیرِ اعلیٰ جس کے پاس پورا سرکاری خزانہ ہے، وہ چاہتی تو اس بل کو سرکاری کھاتے میں ڈال دیتی، کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا۔ یہی تو ہوتا ہے خیبرپختونخوا میں۔ لیکن مریم نواز  نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ کو  معلوم ہے کہ یہ پیسہ عوام کی امانت ہے، کسی غریب مزدور کے خون پسینے کی کمائی ہے۔یہی فرق ہے۔ ایک طرف وہ لیڈر ہے جو سرکاری جہاز کو ذاتی ٹیکسی سمجھتا ہے، جو سٹریٹ موومنٹ کے نام پر عوام کے پیسے پر عیاشی کرتا ہے اور پھر لاہور میں آ کر فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ڈرامے کرتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ لیڈر ہے جو سرکاری وسائل کو استعمال بھی کرے تو پیسہ اپنی جیب سے دیتی ہے۔
مریم نواز شریف اسی کردار اور خودداری کی بدولت آج پنجاب کی عوام کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی ہیں۔مخالفین کو اصل تکلیف جہاز یا دورے کی نہیں اصل تکلیف پنجاب کی ترقی سے ہے۔
انہیں تکلیف ہے کہ پنجاب میں "ستھرا پنجاب" کیوں کامیاب ہو گیا؟ انہیں تکلیف ہے کہ "اپنی چھت اپنا گھر" کے تحت غریب کو چھت کیوں مل رہی ہے؟ انہیں تکلیف ہے کہ "کسان کارڈ"، "ہمت کارڈ"، "فیلڈ ہسپتال" اور "کلینک آن وہیلز" جیسے منصوبے پنجاب میں کیوں چل رہے ہیں اور خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟
گزشتہ 12 سال سے خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت ہے۔ وہاں ایک نیا ہسپتال تک نہیں بنا، وہاں سکول ویران ہیں۔ وہاں ترقی کا کوئی نشان نہیں۔ اس لیے وہاں کا وزیرِ اعلیٰ جب لاہور آتا ہے تو اسے کوئی نہیں پہچانتا، کیونکہ اس کا اپنا کوئی کام ہی نہیں جس سے اسے پہچانا جائےجبکہ مریم نواز شریف جہاں جاتی ہیں، عوام خود نکل کر استقبال کرتے ہیں۔ کیونکہ عوام اندھے نہیں ہیں عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون خدمت کر رہا ہے اور کون تماشہ۔
یہ دورِ جدید ہے۔ اب عوام نعروں سے نہیں، کام سے متاثر ہوتے ہیں۔ عوام اب اس لیڈر کو پسند کرتے ہیں جو ایمانداری سے سرکاری خزانے کی حفاظت کرے، جو اپنی ذات کے لیے نہیں، عوام کے لیے جیے۔
مریم نواز شریف نے پونے تین کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروا کر صرف ایک بل نہیں ادا کیا، بلکہ اس سوچ کو دفن کر دیا ہے کہ اقتدار صرف لوٹ مار کا نام ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت ہی اس ملک کو جوڑ سکتی ہے، اس ملک کو آگے لے جا سکتی ہے۔
ایک طرف کردار کی یہ بلندی ہے اور دوسری طرف فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سستی شہرت حاصل کرنے کی پستی۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ انہیں کون سا پاکستان چاہیے۔پنجاب نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، وہ مریم نواز شریف کے ساتھ ہے۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے۔

مزیدخبریں