"بحری قذاقی کا بدلہ لیا جائے گا"، تہران کا جوابی کارروائی کا اعلان

11:15 AM, 20 Apr, 2026

تہران: ایران نے امریکی فورسز کی جانب سے اپنے بحری جہاز کو قبضے میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور "بحری قذاقی" قرار دے دیا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
 ایرانی مسلح افواج کے کلیدی مرکز 'خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر' کے حکام نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی اس بحری قذاقی کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا اور اس کا بدلہ جلد لیا جائے گا۔
ترجمان ایرانی افواج، ابراہیم ذوالفقاری نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوج نے ایرانی جہاز پر قبضہ کرنے کے دوران براہِ راست فائرنگ بھی کی، جو واشنگٹن کے پرتشدد عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ کا یہ غیر قانونی اور جارحانہ رویہ بین الاقوامی قوانین اور موجودہ سیز فائر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے نتائج کا ذمہ دار امریکہ خود ہوگا۔
ایران کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق اور "بدلہ لینے" کے اعلان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جنون کو مزید ہوا دے دی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی بحری گزرگاہوں میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی مخدوش ہو گئی ہے۔

مزیدخبریں