بیجنگ: چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اور سفارتی تعطل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک "نازک مرحلہ" قرار دے دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بیجنگ کو امید ہے کہ تمام متعلقہ فریقین جنگ بندی معاہدے کی روح کے مطابق پاسداری کریں گے اور انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دیں گے۔ چین نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں اپنا "تعمیری کردار" ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بیجنگ کا ماننا ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے ہی اس پیچیدہ صورتحال کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہاں کسی بھی فریق کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ خطے کے امن کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق، چین کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات سے معذرت کی ہے۔ چین کی جانب سے "تعمیری کردار" کی پیشکش اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ اس سفارتی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات: چین کا 'تعمیری کردار' ادا کرنے اور فریقین کو ذمہ داری دکھانے کا مشورہ
01:49 PM, 20 Apr, 2026