کراچی :کراچی میں منگل کی صبح سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ شہر کی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا، اور نشیبی علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے اب تک 11 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ شدید صورتحال کے پیش نظر آج کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
شارع فیصل، یونیورسٹی روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر بڑی سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں، جس کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی گاڑیاں پانی میں پھنس گئی ہیں اور لوگ انہیں دھکیل کر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرجانی ٹاؤن، گارڈن، شادمان ٹاؤن اور نارتھ کراچی کے کئی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ فوڈ اسٹریٹ نارتھ کراچی کی دکانیں بھی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔
گلشن حدید میں سب سے زیادہ 170 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بارش کی شدت کم نہیں رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آج عام تعطیل کا اعلان کیا اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی۔
بارش کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہو گئے ہیں، جس سے لاکھوں گھر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ کے الیکٹرک کی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں لیکن گراؤنڈ کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ملیر، شارع فیصل اور دیگر اہم راستوں پر ہیوی ٹریفک اور ٹریلرز کی وجہ سے بھی شدید ٹریفک جام لگا ہوا ہے، کئی شہری اپنی گاڑیاں سڑک پر چھوڑ کر پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے رات بھر عوام کے لیے کھلے رہیں گے تاکہ ضرورت مند یہاں آسکیں۔ اس کے علاوہ ہیلپ لائنز اور شکایتی مراکز بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نالوں اور ڈرینج سسٹمز کی مکمل نگرانی کریں اور پانی کی نکاسی کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ساتھ ہی شہریوں کو بھی موسمی حالات سے خبردار رہنے اور غیر ضروری گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
پروازوں کی بھی صورتحال متاثر ہوئی ہے، کراچی سے اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں کے لیے فلائٹس منسوخ یا تاخیر کا شکار ہیں۔
ماہرین موسمیات نے مزید کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، لہٰذا شہریوں کو اپنی حفاظت کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر گرج چمک کے دوران باہر نکلنے سے گریز کریں اور بجلی کے کھمبوں یا درختوں کے قریب نہ جائیں۔