فیصل آباد: وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے فیصل آباد میں ایک اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں گورننس کی حالت اچھی نہیں ہوتی، وہاں نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے نہ صرف گورننس میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو زیادہ سہولتیں ملیں گی۔
طلال چودھری نے مریم نواز کی جانب سے سی سی ڈی میں نئے افسران کی بھرتی نہ کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت عوامی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے محفوظ صوبہ پنجاب ہے، جہاں گورننس کے تمام اقدامات کامیابی سے عمل میں لائے جا رہے ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ نے مزید کہا کہ "پنجاب کے وسائل دنیا کے کئی ممالک سے کم ہیں، لیکن پھر بھی یہاں کی گورننس اور صفائی کا نظام مثالی ہے۔" انہوں نے خاص طور پر ستھرا پنجاب پروگرام کا ذکر کیا، جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
طلال چودھری نے پنجاب کے صفائی کے نظام کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پنجاب کے ہر گاؤں سے صفائی کی جاتی ہے، جبکہ کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں اس نوعیت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔" انہوں نے کہا کہ اٹک سے رحیم یار خان تک پنجاب کے ہر گاؤں کی صفائی کی جاتی ہے۔
کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ "کسانوں کو فصلوں کی صحیح قیمت نہ ملنے کا شکوہ کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں کسانوں کے حقوق کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔"
آخر میں طلال چودھری نے چھوٹے صوبوں کی گورننس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر چھوٹے صوبوں میں گورننس بہتر نہیں ہے، تو اس پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔"