طالبان راج میں خواتین کا مستقبل تاریک: ہیلری کلنٹن کا عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ

02:44 PM, 20 Feb, 2026

نیویارک: سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت افغان خواتین کا مستقبل انتہائی خطرے میں ہے۔ بین الاقوامی جریدے "فارن افیئرز" میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے طالبان کے اقدامات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ نے اپنے مقالے میں طالبان کی حکمت عملی کو بے نقاب کرتے ہوئے درج ذیل پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔  طالبان نے افغان خواتین کو سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی سے تقریباً مکمل طور پر بے دخل کر دیا ہے۔خواتین کی ثانوی تعلیم، یونیورسٹیوں میں داخلے اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
 کلنٹن کا الزام ہے کہ طالبان مذہب کی آڑ میں نصف آبادی (خواتین) کو خاموش کر کے اپنے اقتدار کو مستحکم کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین پر پابندیاں آمرانہ طرزِ حکومت کو مضبوط کر رہی ہیں، جسے روکنا عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
سیاسی اور عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت عوامی فلاح کے بجائے نظریاتی غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دے رہی ہے۔ 
    "خواتین کو معلومات، تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنا دراصل ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تاکہ عوامی شعور کو دبا کر اقتدار پر گرفت مضبوط کی جا سکے۔

مزیدخبریں