پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اہم اجلاس کچھ دیر بعد شروع ہونے والا ہے، جس میں مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین اور اقلیتی اراکین اسمبلی سے حلف لیا جائے گا۔ اجلاس میں شرکت کے لیے اراکین کی آمد جاری ہے، تاہم ماحول خاصا کشیدہ دکھائی دے رہا ہے۔
اجلاس میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی نمائندے حلف اٹھائیں گے۔ حلف لینے والوں میں جے یو آئی اور ن لیگ کی 7، 7 خواتین، پیپلزپارٹی کی 4، اے این پی کی 2، جبکہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کی ایک خاتون شامل ہیں۔ اقلیتوں کی نشستوں پر جے یو آئی کے عسکر پرویز اور گورپال سنگھ، ن لیگ کے سریش کمار اور پیپلزپارٹی کے بہاری لالا بھی حلف لیں گے۔
اسمبلی اجلاس میں مہمانوں کی آمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر آج حلف نہ ہو سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول اور ممکنہ کورم کی نشاندہی کے باعث اجلاس ملتوی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حلف نہ لیا گیا تو معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے، اور ممکن ہے عدالت انہیں یا اسپیکر کو حلف لینے کا حکم دے۔
ادھر سینیٹ انتخابات پر تحریک انصاف کو اندرونی بغاوت کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی کے پانچ ناراض امیدوار عرفان سلیم، وقاص اورکزئی، خرم ذیشان، ارشاد حسین اور عائشہ بانو نے کاغذات واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ مردان سے حکومتی رکن طارق محمود اور سابق وزیر شکیل خان نے عرفان سلیم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
عرفان سلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے 25 سے 30 ایم پی ایز ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ سینیٹ الیکشن میں بڑا سرپرائز دیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 23 ایم پی ایز نے بیانِ حلفی دیا ہے تو ان کے نام منظرعام پر لائے جائیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کا کہنا ہے کہ ناراض امیدواروں سے مزید کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، اور پارٹی کا فیصلہ حتمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ کچھ ایم پی ایز پارٹی فیصلے کے خلاف ناراض امیدواروں کا ساتھ دے رہے ہیں، تاہم سینیٹ الیکشن 21 جولائی کو ہر صورت ہوگا۔