بھارتی انتہاپسندوں کی بلوچستان میں مداخلت بے نقاب، ہندوتوا نظریے کے حامل شخص کا اعتراف

12:19 PM, 20 May, 2025

نیوویب ڈیسک

اسلام آباد  : پاکستانی ذرائع کے مطابق بھارتی انتہاپسند گروپوں کا بلوچستان میں مداخلت کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ بھارت کی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ہندوتوا نظریے کے ایک رکن نے خود بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی حکومت اور انتہاپسند ہندو گروہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کر رہے ہیں، اور اس بارے میں پاکستانی حکام اور مسلح افواج متعدد بار شواہد عالمی میڈیا کے سامنے پیش کر چکی ہیں۔ ان دعووں کے مطابق، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے اپنی پراکسی فورسز کا استعمال کر رہا ہے۔

اب اس معاملے میں ایک نئے موڑ نے اس وقت جنم لیا جب ایک ہندوتوا گروپ کے رکن بھومیہار ساگر نے خود اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ اقرار کیا کہ وہ بلوچستان آرمی کے نام سے چلنے والے ایکس اکاؤنٹ کا حصہ ہیں۔

بھومیہار ساگر نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہیں یہ جان کر افسوس ہوا کہ ان کا اکاؤنٹ @BhumiharSagar_ غیر مستند قرار دے کر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ خود کو تسلیم کرتا ہے اور وہ اس پلیٹ فارم پر اپنی زندگی، خیالات اور تجربات شیئر کرتا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس اعتراف سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے ایک منظم سازش کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ بیان بھارت کی مداخلت کو ایک نئی روشنی میں پیش کرتا ہے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

پاکستانی حکام نے اس انکشاف کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی کی حمایت کی تحقیقات کی جائیں اور اس مسئلے پر عالمی سطح پر کارروائی کی جائے۔

مزیدخبریں