بیجنگ:چین اور روس نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان فوری جنگ بندی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات میں عالمی امن اور تجارتی نظام کو درپیش خطرات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
روسی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی کا بڑھنا غیر دانشمندانہ عمل ہوگا۔ انہوں نے زور دیا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ناگزیر ہے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے حل نکالنا ہوگا۔ اس جنگ کے خاتمے سے ہی عالمی تجارتی نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور کی جا سکیں گی۔ دنیا اس وقت جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے چین اور روس کو مل کر ایک منصفانہ اور متوازن عالمی نظام قائم کرنا ہوگا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدہ حالات میں روس اور چین کے باہمی تعلقات عالمی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا چین آمد پر انتہائی شاندار اور تاریخی استقبال کیا گیا۔ بیجنگ پہنچنے پر چینی افواج کے مسلح دستوں نے روسی صدر کو سلامی پیش کی اور انہیں روایتی گارڈ آف آنر دیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین وفود کی سطح پر باقاعدہ مذاکرات کا دور شروع ہوا۔
مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی غیر دانشمندانہ ہوگی، چین اور روس کا منصفانہ عالمی نظام کے فروغ پر اتفاق
11:25 AM, 20 May, 2026