آئی ایم ایف اور پاکستان کے بجٹ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل، 5 سالہ آٹو پالیسی شیئر؛ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکسوں میں رعایت کی تجویز

12:16 PM, 20 May, 2026

اسلام آباد:پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ اہداف پر جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور دونوں فریقین کے مابین اہم معاشی اہداف پر اتفاقِ رائے کا قوی امکان ہے۔ مذاکرات کے دوران حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف حکام کو ملک میں صنعتی و معاشی استحکام کے لیے تیار کی گئی نئی آٹو پالیسی (2026ء تا 2031ء) کے خدوخال سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی اس نئی پالیسی میں ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر ٹیکسوں کی شرح انتہائی کم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں، آٹو سیکٹر کو عالمی مارکیٹ کے مطابق ڈھالنے کے لیے ٹیرف کو سال 2030ء تک بتدریج کم کر کے 6 فیصد تک لانے کی اہم سفارش بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
پالیسی دستاویز کے مطابق، نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں گذشتہ چند برسوں سے دباؤ کا شکار مقامی آٹو انڈسٹری کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ حکومت نے اس سیکٹر کے ذریعے ملکی برآمدات (Exports) میں اضافے کے لیے واضح اور جامع اہداف مقرر کیے ہیں تاکہ بیرونی زرمبادلہ کمایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ان صنعتی اصلاحات اور بجٹ اہداف پر بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، جس کے بعد آئندہ بجٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔

مزیدخبریں