دوستی یا مفاد؟ طالبان اور بھارت کے تجارتی تعلقات کا سفر

01:10 PM, 20 Nov, 2025

کابل: طالبان حکومت نے بھارت کے ساتھ تعلقات گرمانے کی نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں طالبان نے بھارت کو "ہندو کافر ریاست" قرار دے کر افغان حکومت کے خلاف پراپیگنڈہ کیا تھا، لیکن اب وہ بھارت کے وزراء کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری، تجارتی راستے اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے مدعو کر رہے ہیں۔
نور الدین عزیزی، جو افغان طالبان کے وزیرِتجارت ہیں  گذشتہ روز سے   اپنے پہلے سرکاری دورے پر نئی دہلی  میں ہیں۔ یہ دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان حکومت اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔دورے کا مرکزی مقصد زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنا اور بھارت سے تجارتی سامان درآمد کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔
یادرہے کہ  بھارت نے کچھ عرصہ قبل طالبان حکومت کے تحت کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ بھارت افغانستان میں موجودہ حالات میں اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت نے 2021 میں امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔امدادی پروگرام کی تیزی: بھارت افغانستان میں انسانی ہمدردی اور ترقیاتی پروگراموں کو بڑھا رہا ہے۔ یہ نہ صرف انسانی مدد کے لیے ہے بلکہ افغان عوام اور حکومت میں اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہے۔چین کے ساتھ مسابقت: بھارت یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ چین افغانستان میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ اس لیے نئی دہلی چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سیاسی مبصرین  کے مطابق یہ تبدیلی کئی محاذوں پر واضح ہے ۔ طالبان نے افغانستان کے تاریخی بدھ مجسمے تباہ کیے تھے، لیکن اب وہ بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے اسی ثقافتی ورثے کو فروغ دینے والے ملک کے قریب آ رہے ہیں۔ ماضی میں بھارت کے سفارت خانے کو جاسوسی کے مراکز قرار دیا جاتا تھا، جبکہ آج طالبان بھارت سے گندم، تجارتی راہداریوں اور سرمایہ کاری کے لیے انحصار کر رہے ہیں۔

 پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد طالبان نے بھارت کی طرف رخ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی اور معاشی مفادات مذہبی یا تاریخی بیانات پر غالب ہیں۔ طالبان ماضی میں مغربی مالیاتی نظام اور سودی معیشت کے خلاف تھے، لیکن اب وہ بھارت سے سرمایہ کاری اور بینکنگ روابط چاہتے ہیں۔ ملک میں خواتین کی تعلیم اور میڈیا پر پابندیاں سخت ہیں، مگر خارجہ پالیسی میں وہ تیز رفتاری سے کسی بھی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتے ہیں، چاہے وہ پہلے دشمن کہلائی ہو۔

سیاسی مبصرین   کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ طالبان کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ماضی کے  دشمن  بھول کر اقتصادی فوائد اور عالمی تسلیمات کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔

مزیدخبریں