پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ: سعودی عرب سے مزید ایک ارب ڈالر موصول

10:05 AM, 21 Apr, 2026

کراچی / اسلام آباد: پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد کے طور پر 1 ارب ڈالر کی دوسری اور آخری قسط موصول ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، سعودی وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے ساتھ کیے گئے حالیہ مالیاتی معاہدے کے تحت مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل کر لیے ہیں۔ اس سے قبل 15 اپریل 2026 کو سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر کی پہلی بڑی قسط اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل کی تھی، جس کے بعد اب مزید ایک ارب ڈالر کی آمد سے یہ پیکیج مکمل ہو گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے اس رقم کی موصولی پاکستان کے لیے انتہائی اہم وقت پر ہوئی ہے۔ اس کے اہم اثرات درج ذیل ہیں۔ سٹیٹ بینک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔ کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ دوست ممالک کی جانب سے اس مالی معاونت سے آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ جاری اقتصادی پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
سعودی عرب کی جانب سے بروقت کی گئی اس مدد کو پاکستان کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک "لائف لائن" قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی حکومت نے نہ صرف یہ نئے ڈپازٹس فراہم کیے ہیں بلکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کی مدت میں بھی توسیع کر دی ہے، جس سے پاکستان پر فوری مالی دباؤ میں بڑی کمی آئی ہے۔

کراچی / اسلام آباد: پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد کے طور پر 1 ارب ڈالر کی دوسری اور آخری قسط موصول ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، سعودی وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے ساتھ کیے گئے حالیہ مالیاتی معاہدے کے تحت مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل کر لیے ہیں۔ اس سے قبل 15 اپریل 2026 کو سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر کی پہلی بڑی قسط اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل کی تھی، جس کے بعد اب مزید ایک ارب ڈالر کی آمد سے یہ پیکیج مکمل ہو گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے اس رقم کی موصولی پاکستان کے لیے انتہائی اہم وقت پر ہوئی ہے۔ اس کے اہم اثرات درج ذیل ہیں۔ سٹیٹ بینک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔ کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ دوست ممالک کی جانب سے اس مالی معاونت سے آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ جاری اقتصادی پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
سعودی عرب کی جانب سے بروقت کی گئی اس مدد کو پاکستان کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک "لائف لائن" قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی حکومت نے نہ صرف یہ نئے ڈپازٹس فراہم کیے ہیں بلکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کی مدت میں بھی توسیع کر دی ہے، جس سے پاکستان پر فوری مالی دباؤ میں بڑی کمی آئی ہے۔

مزیدخبریں