تہران : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پر تاریخی عدم اعتماد اور اس کے متضاد بیانات بامعنی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہیں۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ محض باتوں سے مذاکرات کی میز نہیں سجتی، بلکہ اس کے لیے "وعدوں کی پاسداری" بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ اپنے کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتا، تب تک کسی بھی مکالمے کا کوئی مقصد نہیں۔
مسعود پزشکیان نے امریکی حکام کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے غیر تعمیری اور متضاد بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ امریکہ مذاکرات کے نام پر دراصل ایران سے "ہتھیار ڈالنے" کا مطالبہ کر رہا ہے، جو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
صدر پزشکیان نے عالمی برادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک خود مختار ملک ہے اور وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات صرف برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی طاقتیں تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھلنے کی منتظر ہیں۔ تاہم، تہران نے واضح کر دیا ہے کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
"امریکہ پر عدم اعتماد مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ": ایرانی صدر
11:15 AM, 21 Apr, 2026