اب دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی!

12:38 PM, 21 Apr, 2026

تحریر: طارق وسیم

ایران امریکہ ڈیل یا مذاکرات کچھ بھی نام دے لیں ،ایک بار پھر پاکستان میں ہونے جا رہے ہیں ، ایران کا دفاع کچھ لوگوں کے ازحد ضروری بھی ہے  دوسری جانب امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی  کر رکھی ہے ،دنیا کے ہر ملک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، لیکن ایران کے جہازوں پر سفری پابندی ہے ،اسی دوران ایک جہاز ٹوسکا نے کچھ ہل جل کی تو امریکیوں نے اسے عملے سمیت اپنے قبضے میں لے لیا ،ایک گروہ نے اسے امریکہ کا ناقابل تلافی جرم قرار دیا تو دوسرے نے کہا اس جہاز پر کچھ ایسے کیمیکل موجود تھے جو بیلسٹک میزائل بنانے میں کام آتے ہیں ،امریکی اور مغربی میڈیا کے ایک غیر معتبر حصے نے بھی اس کی تصدیق کی، لیکن جو لوگ جنگ کو سمجھتے ہیں وہ  جانتے ہیں کہ عملی طور پر ایسا ہونا  ممکن نہیں ۔
ایران نے امریکہ کے اس اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں قرار داد جمع کرا دی ہے جس کے متن کے مطابق امریکہ کا یہ عمل خطرناک ہے جو  مستقبل میں  مزید خطروں کو جنم دے سکتا ہے ،پاسداران انقلاب  کے چند جملے اتنے زیادہ سنے گئے ہیں کہ اب ان پر رد عمل دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، یہ  بالکل اسی طرح ہے جیسے  ہم  ہوش سنبھالنے کے بعد سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے ، چین روس اور یورپ سب کا ایک ہی موقف  ہے کہ آبنائے ہرمز  سے بحری جہازوں کی آزادانہ نقل وحمل یقینی بنائی جائے ۔بعض اوقات تو  ایسا محسوس ہوتا ہے ،ایران روس  چین اور دیگر ممالک بڑی شد و مد سے امریکہ کا سپر پاور سٹیٹس برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،کسی بھی بڑے واقعے پر ہومیو پیتھک قسم کا رد عمل دینا اس بات کا ثبوت ہے ،اس طرز عمل سے ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول  چھن جائے گا اور اس کا مستقبل بھی غیر محفوط ہوگا ۔سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ نو کروڑ 30 لاکھ آبادی والے ملک کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس بنیاد  پر کیسے کیا جا سکتا ہے کہ چند لوگ جو وہاں اقتدار پر قابض ہیں  وہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں ایران کو جوہری ہتھیار  نہیں بنانے دیں  گے، وہاں کی قیادت غیر ذمہ دار ہے  جو دنیا کا امن  خطرے میں ڈال سکتی ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ امریکہ نے  دوسری جنگ عظیم  میں جاپان پر ایٹم  بم گرا کر دنیا کاا من  خطرے میں ڈال دیا تھا ۔
 جنگ عظیم تو رک گئی تھی   لیکن دنیا ایک نئے اور بھیانک خطرے سے دوچار ہو گئی تھی، چلیں  مان لیتے ہیں آپ نے  پرل ہاربر پر جاپانی حملے میں مارے  گئے ساڑھے تین ہزار لوگوں کا  بدلہ لیا تھا ،لیکن ویت نام میں  نہتے لوگوں اور ننگ دھڑنگ بچوں پر نیپام بم گرا کر کون سا بدلہ  یا تھا؟افغانستان میں ڈیزی کٹر استعمال کر کے کون سا امن قائم کر رہے تھے آپ ؟ عراق میں آپریشن ڈیزرٹ سٹورم  کر کے  آپ نے سارے عراق ہی کو  بے آب و گیاہ ریگستان میں تبدیل کر دیا تھا۔ امریکہ  کے سامنے چپ رہنے والے لوگ  اس وقت بہت شور مچاتے ہیں جب اسامہ بن لادن جیسا کوئی شخص   اٹھ کھڑا ہوتا ہے ،ایران کے ساتھ جو ہونے جا رہا ہے وہ بھی بہت سے ایسے گروہ اور افراد پیدا کرے گا،جو عوامی ہمدردی کے ساتھ مزاحمت کا چولا اوڑھ کر در اصل امریکہ ہی کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔
امریکہ سادہ  انداز میں رجیم چینج کر کے ایران میں معتدل حکومت قائم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے،کیونکہ اس طرح یہ قضیہ ختم ہو جائے گا  جو  وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون  کا مطمع نظر نہیں ،پاکستان نے قیام امن کی بہت کوششیں کی ہیں۔ تمام  خلیجی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے بھی  کر رہے ہیں،امن کے  لیے کی جانے والی ہماری کوششیں دنیا دیکھ رہی ہے ،مذاکرات بھی ہوں گے ،دنیا کے 10 ممالک کے 28 سے زیادہ حکومتی زعما  شرکت  بھی کریں گے ،فائنل ڈیل بھی ہو گی  لیکن دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی ۔آبنائے  ہرمز اب ایک بین الاقوامی روٹ ہوگا جس پر ایران کی  اجارہ داری  نہیں  ہوگی ،جوہری ہتھیاروں کے نام پر ایران ایک سافٹ ٹارگٹ رہے گا ،اس کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ رجیم کو مل جائے گا،،لیکن سرخ دائرہ  تب تک برقرار رہے گا جب تک ایران میں کوئی حقیقی عوامی قیادت اور حکومت سامنے نہیں آتی اور یہ امریکہ ہونے نہیں دے گا۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں