پنجاب : طوفانی بارشوں سے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، کئی علاقے زیرِ آب ،بند ٹوٹنے سے سیکڑوں بستیاں اجڑ گئیں

02:53 PM, 21 Aug, 2025

قصور، تونسہ : پنجاب کے مختلف اضلاع میں مسلسل تیز بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں دریائے سندھ کی طغیانی کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ 7 ہزار سے زائد افراد اور تقریباً 100 بستیاں سیلابی پانی میں گھر چکی ہیں۔ تونسہ کے مقام پر کچے کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں 70 سے زائد بستیاں، پل اور سڑکیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ 150 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر قائم ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر خیرپور ٹامیوالی میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے مقامی کسانوں میں شدید پریشانی پھیل گئی ہے۔

دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ چشتیاں کے علاقے بستی جھنڈوں کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی نزدیکی آبادیوں میں داخل ہو رہا ہے۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بند باندھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

قصور کے مختلف دیہات بھی متاثر ہوئے ہیں، جہاں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چندہ سنگھ، مستے کی، نگر، ایمن پورہ اور چھانٹ کے راستے پانی میں ڈوب جانے سے کٹ چکے ہیں۔ ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 20 فٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ بہاؤ 70 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق مزید بارشوں کے باعث پانی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں جہاں لوگوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، جب کہ کشتیاں استعمال کر کے دریا پار علاقوں سے دیہاتیوں اور ان کے مال مویشی کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپوں میں متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ضرورت پڑنے پر فوراً ریلیف کیمپوں سے رابطہ کریں۔

مزیدخبریں