سندھ کی تقسیم ناممکن: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کر دی

04:10 PM, 21 Feb, 2026

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں صوبے کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے حق میں ایک پُرزور قرارداد پیش کی ہے، جس میں کراچی کو سندھ کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے تقسیم کی تمام کوششوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے قرارداد میں مؤقف اختیار کیا کہ سندھ محض کوئی عام انتظامی اکائی نہیں بلکہ یہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ موئن جو دڑو کی یہ سرزمین وادیٔ سندھ کی تہذیب کا گہوارہ ہے اور اس کی شناخت، زبان اور ثقافتی تسلسل جدید سیاسی سرحدوں کے قیام سے بھی صدیوں پرانا ورثہ ہے۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ     سندھ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، سچل سرمستؒ، عبداللہ شاہ غازیؒ اور لعل شہباز قلندرؒ جیسے عظیم صوفیاء کی دھرتی ہے۔ان کاکہنا تھا کہ تاریخ میں کئی حملہ آور آئے اور چلے گئے، مگر سندھ متحد اور ناقابلِ تقسیم رہا۔"
کراچی کے حوالے سے قرارداد میں واضح کیا گیا کہ یہ شہر تاریخی طور پر 'کولاچی' کے نام سے معروف تھا اور یہ سندھ کی سرزمین سے ہی ابھرنے والا شہر ہے۔ وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی کرنا آئینی طور پر ناممکن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ وہ پہلا صوبہ ہے جس نے قراردادِ پاکستان منظور کی تھی اور اسے پاکستان فیڈریشن میں ایک تاریخی اور جداگانہ اکائی کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔

    ایوان کا متفقہ عزم:
    قرارداد کے ذریعے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تقسیم پر مبنی بیانیے اور اقدامات سے گریز کریں۔ ایوان نے جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سندھ کے دفاع اور اس کی وحدت کے لیے متحد ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مزیدخبریں