واشنگٹن : ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور سلامتی خدشات کے پیش نظر اپنے ممکنہ جانشینوں کی فہرست مرتب کر لی ہے، جس میں تین سینئر علما کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
اخبار کے مطابق، یہ "غیر معمولی اقدام" اسرائیلی حملوں میں اضافے اور امریکہ و اسرائیل سے درپیش خطرات کے پیش نظر کیا گیا، کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای کو اپنی جان کو لاحق ممکنہ خطرات کا احساس ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای — جنہیں طویل عرصے سے ان کا ممکنہ جانشین تصور کیا جاتا رہا ہے — اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک مذہبی شخصیت ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جاتے ہیں، تاہم انہیں جانشینی کے لیے رسمی طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔
اخبار نے مزید لکھا کہ ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی بھی ممکنہ جانشین کے طور پر سامنے آئے تھے، مگر وہ مئی 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد ایران کی قیادت کے تسلسل سے متعلق بحث نے دوبارہ شدت اختیار کر لی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے جانشینی کا عمل خفیہ اور حساس نوعیت کا معاملہ ہے، اور حتمی فیصلہ مجلسِ خبرگان کی منظوری سے مشروط ہوتا ہے۔ تاہم ممکنہ جانشینوں کے ناموں کا سامنے آنا ایرانی نظامِ حکومت میں مستقبل کی سمت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔