میر علی واقعہ: دشمن کی نئی چال یا مقامی امن کی آزمائش؟ ابتدائی رپورٹ میں ’’الخوارج‘‘ تنظیم کو ذمہ دار قرار دیا گیا

04:23 PM, 21 May, 2025

راولپنڈی :19 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں پیش آنے والے سانحے نے ایک بار پھر علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ واقعے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مربوط مہم دیکھی گئی، جسے پاک فوج نے گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کے پیچھے ’’الخوارج‘‘ نامی شدت پسند تنظیم کا ہاتھ ہے، جو بھارتی سرپرستی میں پاکستان کے پرامن علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تنظیم نے شہریوں کو ڈھال بنا کر دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی کی۔

ذرائع کے مطابق یہ حملہ نہ صرف سکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے بلکہ مقامی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی ایک دانستہ کوشش تھی۔ تاہم، آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ عوام اور فورسز کے درمیان رشتہ مضبوط ہے اور ایسے ہتھکنڈے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو نہیں روک سکتے۔

سکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

مزیدخبریں