پینٹاگون نے امریکی فوجی معاملات کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

12:46 AM, 21 Sep, 2025

واشنگٹن: پینٹاگون نے امریکی فوجی معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو صرف وہی معلومات شائع کرنے کی اجازت ہوگی جنہیں باقاعدہ طور پر جاری کرنے کی منظوری حاصل ہو۔

صحافیوں کو ایک حلف نامے پر دستخط کرنا ہوں گے جس میں وہ قواعد کی مکمل پابندی کا یقین دہانی کروائیں گے، ورنہ ان کے میڈیا کارڈز منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے میڈیا پر کنٹرول بڑھانے کی نئی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے منفی خبریں غیر قانونی قرار دینے کی دھمکی دی تھی۔

پینٹاگون کے ہدایات نامے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی معلومات کی اشاعت سے پہلے متعلقہ حکام کی منظوری لازمی ہے، چاہے وہ غیر خفیہ ہی کیوں نہ ہو، جس سے غیر مصدقہ خبریں شائع کرنے پر مؤثر پابندی لگ جائے گی۔

یہ پابندیاں خفیہ اور کنٹرول شدہ غیر خفیہ معلومات دونوں پر لاگو ہوں گی اور پینٹاگون کے اندر صحافیوں کی نقل و حرکت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا ہے کہ پریس پینٹاگون نہیں بلکہ عوام کا نمائندہ ہے، اس لیے صحافیوں کو اصولوں کی پابندی کرنی ہوگی یا انہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وزیر دفاع کو یمن میں امریکی فضائی حملوں کی تفصیلات نجی گروپ چیٹ میں غیر ارادی طور پر افشا کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے ان قواعد کو عوامی ٹیکس کی رقم سے چلنے والی فوج کی سرگرمیوں کی عوامی رسائی محدود کرنے کا خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔

نیشنل پریس کلب کے صدر مائیک بالسامو نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ حکومت کی منظوری کے بغیر خبریں شائع کرنے کی اجازت نہ دینا عوام کے حقِ معلومات کی خلاف ورزی ہے اور یہ ہر امریکی کے لیے تشویش کی بات ہے۔
 
 

مزیدخبریں