سروں کی شہزادی نور جہاں کی 99ویں سالگرہ، آج بھی دلوں پر راج برقرار

04:57 PM, 21 Sep, 2025

لاہور: ملکہ ترنم نور جہاں کی 99ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ سروں کی وہ شہزادی، جن کی آواز نے چھ دہائیوں تک فلمی دنیا کو روشن رکھا، آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کے گائے ہوئے نغمے، غزلیں اور قومی ترانے آج بھی سماعتوں کو مسحور کرتے ہیں۔

21 ستمبر 1926ء کو قصور میں پیدا ہونے والی اللہ وسائی نے جب فن کی دنیا میں قدم رکھا تو جلد ہی "نور جہاں" کے نام سے پہچان حاصل کر لی۔ انہوں نے 1935ء میں بطور چائلڈ آرٹسٹ فلم "پنڈ دی کڑی" سے اپنے سفر کا آغاز کیا، جو بعد ازاں "انمول گھڑی"، "ہیر سیال" اور "سسی پنوں" جیسی کلاسک فلموں تک جا پہنچا۔

1941ء میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں فلم "خزانچی" میں بطور پلے بیک سنگر متعارف کرایا، اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے نور جہاں کو ایک نئی پہچان دی۔ اسی سال فلم "خاندان" نے ان کے فنی کیریئر کو پر لگا دیے۔

قیام پاکستان کے بعد نور جہاں نے فلم "چن وے" سے پاکستانی فلمی صنعت میں قدم رکھا۔ بعد ازاں اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کر کے خود کو مکمل طور پر گلوکاری کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی آواز نہ صرف فلموں کا حسن بنی، بلکہ جنگی ترانوں میں بھی ان کی گونج نے قوم کے جذبے کو جلا بخشی۔

ملکہ ترنم نور جہاں نے تقریباً 995 فلموں کے لیے گانے ریکارڈ کروائے، اور مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد گیت، غزلیں اور ملی نغمے گائے۔ انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو بھی اپنی آواز سے امر کر دیا۔

ان کی بے مثال خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور نشانِ امتیاز سے نوازا۔نور جہاں کی آواز ایک دور نہیں، ایک عہد تھی — اور آج، ان کی سالگرہ کے موقع پر پوری قوم انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔

مزیدخبریں