نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو اجاگر کریں گے۔
نیویارک میں وزیراعظم کے دورے کے حوالے سے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ وزیراعظم کے خطاب میں کثیرالجہتی تعاون، موسمیاتی تبدیلی اور موجودہ عالمی صورتحال سمیت اہم بین الاقوامی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جبکہ ایپل کے ایگزیکٹو چیئرمین ٹم کک سے ملاقات کے انتظامات کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل بھی شامل ہوں گے۔
پاکستان فلسطین کے معاملے پر غزہ میں فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جبکہ کشمیر کے مسئلے پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مؤقف کو اقوام متحدہ میں مسلسل اجاگر کرتا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک پہنچ چکے ہیں اور جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ وہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ہونے والے اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے۔
پاکستانی حکام کے مطابق وزیراعظم کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی اجلاس جاری ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا اہم موضوع ہے۔