بیجنگ: چین نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو "جنگ سے امن کی طرف منتقلی کا اہم مرحلہ" قرار دیتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں مستقل استحکام کے لیے کسی بھی تعمیری کردار کی ادائیگی کے لیے تیار ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ ہمیشہ سے اس موقف پر قائم ہے کہ تمام عالمی و علاقائی تنازعات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ چین نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کے عمل کو ترجیح دیں۔
بیجنگ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں تھوڑی سی لغزش بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح یہ ہے کہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ چین خطے میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا یہ بیان خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ بیجنگ اب عالمی سطح پر ایک ایسے 'امن ثالث' کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو پیچیدہ سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام فریقین کو ایک میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین نے اعادہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا امن نہ صرف علاقائی ضرورت ہے بلکہ عالمی معیشت اور استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کا مشن: چین کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم
12:25 PM, 22 Apr, 2026