اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاج معالجے کے حوالے سے انتظامیہ نے عدالتی احکامات پر آئین اور قانون کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے چیک اپ کے وقت ان کی ہمشیرہ بھی ہمراہ تھیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا تھا کہ صحت کے معاملے پر سیاسی بیان بازی نہیں کی جائے گی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے کو سیاسی طور پر اجاگر کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ کسی کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بے بنیاد توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے اور عدالت کو کرائی گئی یقین دہانی کی نفی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے نظرثانی اپیل میں تمام قیدیوں کے لیے سہولتوں کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے۔ انتظامیہ نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کیا اور قوم کو تمام حقائق سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا گیا۔
عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ شفا ہسپتال کے باہر ٹولیوں کی شکل میں لوگ کس نے جمع کیے؟ ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کرکے بھی عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی یا نہیں، اس کا جواب پی ٹی آئی کو دینا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دوسروں کی صحت سے متعلق بیانات سب کے سامنے ہیں، تاہم حکومت نے کبھی کسی کی صحت پر توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے، اسی میں سب کی بہتری ہے۔