فاسٹ باؤلنگ ،بھارت اور ایشیا کپ

03:30 PM, 22 Dec, 2025

طارق وسیم

بھارت کو شکست دے کر پاکستان ایشیا کا انڈر 19 کرکٹ چیمپئن بن گیا ہے ،سمیر منہاس  کے شاندار 172 رنز اور علی رضا کی 4 وکٹوں  نے  پاکستان کی ،باآسانی فتح میں کلیدی کردار ادا  کیا ۔حسب سابق پاکستانی باؤلنگ ٹورمنٹ میں سب سے اچھی تھی ،علی رضا کافی تیز رفتار  باؤلر ہیں اور مستقل مزاجی سے پرفارم بھی کر رہے ہیں، دیگر باؤلرز بھی اچھے ہیں لیکن موجودہ ٹیم میں حذیفہ نامی آف سپنر کے بارے  میں کہا جاتا ہے کہ وہ ثقلین مشتا  ق کی طرز کے  باؤلر ہیں۔
  گزشتہ  میچ میں  انہوں نے دو اوورز میں  بارہ رنز دے کر 2 کھلاڑی آؤٹ کیے ،بلے بازوں کی بات کی جائے تو سمیر منہاس نے اس ٹورنامنٹ میں  ،  دو مرتبہ 170 سے زیادہ رنز بنائے ہیں کم عمر کھلاڑی ہیں لیکن  ان کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ ڈبل سنچری کے اتنے نزدیک جا کر وکٹ تھرو نہیں کیا کرتے ،بھلے آپ ٹی 20 میچ ہی کیوں نہ کھیل رہے ہوں ۔دوسری بات جس بھارتی باؤلنگ کو سمیر نے سکور کیا ہے وہ کلب لیول سے بھی نیچے کی تھی ۔
تاریخی طور پر بھارت میں تیز باؤلر پیدا نہیں ہوتے ،یہ چندر شیکھر ،بشن سنگھ بیدی اور انیل کمبلے جیسے باؤلرز کے سر پر کرکٹ کھیلتے آئے ہیں ،کوئی بھارتی اگر تیز بائولنگ کرنے کی کوشش بھی کرے تو آف سپنر کے ٹاپ سپنر سے زیادہ تیز  گیند کر نہیں پاتا ،کپل دیو کی 434 وکٹیں ہیں بہت اچھا  لیگ کٹر کرتے تھے لیکن کرکٹرز ان کے لیگ کٹر کو تیز لیگ بریک کہا کرتے تھے ۔1980 سے بھارت کے شہر مدراس میں ڈینس للی اکیڈمی قائم ہے ،جو فاسٹ باؤلرز تلاش کرتی رہتی ہے ، ڈینس للی خود بھی بھارت میں فاسٹ باؤلرز کی تلاش میں  رہے ،وسیم اکرم سے مدد حاصل کی گئی لیکن فاسٹ باؤلر نہیں ملنا تھا سو نہ ملا۔
بھارتیوں نے    اس کا توڑ  یہ نکالا کہ آئی سی سی پر قبضہ کرکے کرکٹ کو بلے بازوں کا کھیل بنانے کی کوشش کی ،ایک روزہ اور ٹی 20 میچز میں باؤنڈریز چھوٹی کرا دیں کیونکہ انڈین بلے باز    لمبی اور بڑی ہٹ نہیں مار سکتے ،آئی پی ایل میں دنیا بھر سے پلیئرز کو بلایا  جاتا ہے ، جو انڈیا آکر بھارتیوں کی مرضی کی کرکٹ کھیلتے ہیں اپنے پیسے پکڑتے ہیں اور گھر جا کر خوب ہنستے  ہیں۔  بہر حال یہ تو تکنیکی معاملات ہیں جو  ہمیشہ ہی موضوع بحث رہے ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے ۔اس وقت بات کرتے ہیں ایک ایسے جملے کی جو پاکستان اور بھارت میں    بہت مقبول ہوا ہے ،اور وہ جملہ ہے پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے مینٹور سرفراز احمد جو میچ سے قبل اپنے کھلاڑیوں کو تمیز کے دائرے میں رہنے اور جاہلوں کے ساتھ  جاہل نہ بننے کامشورہ دے رہے ہیں ۔
یہ ایک پاکستانی کا رویہ ہے  دوسری جانب بھارت اپنےکھلاڑیوں کو خاص طور پر یہ تربیت دیتا ہے کہ جارحانہ کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ گراؤنڈ میں دوسری ٹیم  کے کھلاڑیوں سے بد تمیزی بھی کرنی ہے ،بھارتی کرکٹ بورڈ نئے ایشیا کپ میں اپنے کھلاڑیوں کو  پاکستانی کرکٹرز سے ہاتھ ملانے سے بھی روک دیا تھا ، حال ہی میں جنوبی افریقی کے خلاف  کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں    جسپریت بمرا اور دیگر کھلاڑیوں نے ٹمبا  باووما  کے  چھوٹے قد کا تمسخر اڑایا تھا،  بھارت کا مسئلہ کیا ہے ؟یہ بات نوجوت سنگھ سدھو سے  پوچھی گئی تو ان کا کہنا تھا باقی ٹیموں کے ساتھ بھارتی کرکٹرز کا رویہ زیادہ جارحانہ نہیں ہوتا لیکن پاکستان کا خوف اتنا ہوتا ہے کہ اسے دور کرنے کے لیے  لڑکوں کو ایگریسو انداز اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے ۔بھارتیوں کو چاہیے کے خوف کا شکار ہونے کے بجائے کھیل بہتر کریں بد تمیزی کے بجائے تہذیب اختیار کریں ۔
آئی پی ایل کے میچز 50 میٹر کی باؤنڈریز پر کرانے کے بجائے  گراؤنڈز تھوڑی بڑی کر لیں  اور میدان میں مثبت سرگرمی دکھائیں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں