کمزور پاسورڈ : برطانیہ کی 158 سالہ پرانی لاجسٹک کمپنی رینسم ویئر حملے کے بعد بند، سینکڑوں خاندان بے روزگار

04:30 PM, 22 Jul, 2025

لندن : برطانیہ کی مشہور اور 158 سال پرانی ٹرانسپورٹ کمپنی کے این پی لاجسٹکس ایک خوفناک رینسم ویئر حملے کا نشانہ بن گئی، جس کے بعد کمپنی کا سارا نظام بیٹھ گیا اور ادارہ بند ہونے پر مجبور ہو گیا۔ اس واقعے نے سینکڑوں ملازمین اور ان کے خاندانوں کو بے روزگاری اور مالی مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔

یہ سائبر حملہ ایک بدنام گروہ "اکیرہ" نے کیا، جنہوں نے کمپنی کے ایک ملازم کا کمزور پاس ورڈ اندازے سے لگا کر سسٹم تک رسائی حاصل کی۔ ہیکرز نے پورا ڈیٹا انکرپٹ کر دیا اور اندرونی نظام مفلوج کر دیا۔ کمپنی کے ڈائریکٹر پال ایبٹ کے مطابق یہ سب کچھ صرف ایک کمزور پاس ورڈ کی وجہ سے ممکن ہوا۔

کے این پی لاجسٹکس، جو کہ "نائیٹس آف اولڈ" کے نام سے برطانیہ بھر میں مشہور تھی، 500 سے زائد ٹرک چلاتی تھی۔ کمپنی نے جدید سائبر سیکیورٹی اقدامات اور انشورنس بھی لی ہوئی تھی، مگر پھر بھی یہ حملہ روکنے میں ناکام رہی۔

ہیکرز نے اپنے تاوان کے نوٹ میں کہا: "اگر آپ یہ پیغام پڑھ رہے ہیں تو سمجھ لیں آپ کا نظام یا تو مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ رونا دھونا چھوڑیں، اور تعمیری بات چیت کریں۔"

ماہرین کے مطابق ہیکرز نے تقریباً 5 ملین پاؤنڈز تاوان مانگا تھا، جو کمپنی ادا نہ کر سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کمپنی کا سارا ڈیٹا ضائع ہو گیا اور کے این پی کو اپنا آپریشن بند کرنا پڑا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ کو-اوپ، ایم اینڈ ایس اور ہرروڈز جیسے بڑے ادارے بھی ماضی میں ایسے حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں لاکھوں افراد کا ڈیٹا چوری ہوا۔

برطانوی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے چیف رچرڈ ہورن نے ان بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ نیشنل کرائم ایجنسی کی سائبر ٹیم کی سربراہ سوزین گرمر کے مطابق صرف دو سال میں رینسم ویئر حملوں کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے، اور اگر یہی رفتار رہی تو 2025 بدترین سال ثابت ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں