دہلی میں طلبا احتجاج مودی حکومت کے لیے نیا امتحان بن گیا

03:36 PM, 22 Jul, 2026

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں طلباکے احتجاج نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ تحریک تعلیمی نظام، مبینہ امتحانی بدعنوانیوں، پیپر لیکس اور نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کے مسائل کے خلاف شروع ہوئی۔

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) دراصل کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نوجوانوں کی ایک احتجاجی تحریک ہے۔ اس کا آغاز 30 سالہ سیاسی رابطہ کاری کے ماہر ابھیجیت ڈپکے نے ایک مذاق کے طور پر کیا، تاہم آن لائن رجسٹریشن کے بعد ہزاروں نوجوان اس سے جڑ گئے اور یہ ایک بڑی تحریک بن گئی۔

سی جے پی نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا، جس میں دہلی میں بڑی تعداد میں نوجوان شریک ہوئے، جبکہ ممبئی، بنگلورو اور گوا سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاج اور شمع روشن کرنے کی تقریبات ہوئیں۔

تحریک کو اس وقت مزید اہمیت ملی جب معروف انجینئر اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے سی جے پی کے مطالبات کی حمایت میں جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کی۔ حکام کی جانب سے انہیں ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا نام بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے مبینہ بیان کے ردعمل میں طنزیہ انداز میں رکھا گیا، جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کے ایک طبقے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ نام بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نام کی پیروڈی بھی قرار دیا جاتا ہے۔

مظاہرین کے اہم مطالبات میں تعلیمی نظام میں اصلاحات، امتحانات میں شفافیت، مبینہ پیپر لیکس کی تحقیقات اور میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ سے متعلق مسائل کا حل شامل ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں شفافیت، پیپر لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور تعلیمی نظام میں بہتری ضروری ہے۔ وہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے بھی استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت نے مودی حکومت کے لیے تعلیمی پالیسیوں اور نوجوانوں کے مسائل پر توجہ دینے کا ایک اہم پیغام دیا ہے۔

مزیدخبریں