ٹرمپ کا ایران پر حملہ: امریکی سینیٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑے

12:16 PM, 22 Jun, 2025

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیے جانے کے بعد امریکی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا ہے، جہاں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس فیصلے پر شدید تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر "وار پاورز ایکٹ" (جنگی اختیارات کا قانون) نافذ کیا جائے تاکہ کسی بھی صدر کو بغیر کانگریس کی منظوری کے ملک کو جنگ میں جھونکنے سے روکا جا سکے۔

چک شومر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ ایران پر حملے کے فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں، اس کی حکمت عملی کیا ہے، اور یہ فیصلہ امریکیوں کی سلامتی پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، معروف رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے اس حملے کو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امریکی آئین بلکہ کانگریس کے جنگی اختیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ نے غصے اور جذبات میں آ کر ایک ایسی جنگ چھیڑنے کی راہ ہموار کی ہے جو امریکا کو دہائیوں تک مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

مزیدخبریں