ایران پر امریکی حملے پر عالمی ردعمل، لاطینی امریکہ کی شدید مذمت، آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کا سفارتکاری پر زور

01:28 PM, 22 Jun, 2025

لاہور : دنیا بھر سے ایران پر امریکی حملے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ لاطینی امریکی ممالک نے اس کارروائی کو غیر قانونی اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کھل کر مذمت کی ہے، جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے امریکی بمباری کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام انسانیت کو ایک سنگین بحران میں دھکیل سکتا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوں گے۔

چلی کے صدر گیبریل بورک نے امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ انسانیت کے اصول پامال کیے جائیں، چاہے حملہ آور ملک امریکا ہی کیوں نہ ہو۔

میکسیکو نے پُرامن حل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی ریاستوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی حامی ہے، اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہماری ترجیح ہے۔

وینزویلا نے بھی امریکی کارروائی کی دوٹوک مذمت کی ہے۔ وزیر خارجہ ایوان گل نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کے مطالبے پر کیا گیا، اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً جنگی کارروائیاں بند کی جائیں۔

دوسری طرف، آسٹریلیا  نے اگرچہ ایران کے میزائل پروگرام کو عالمی خطرہ قرار دے کر بالواسطہ طور پر امریکا کی حمایت کی، مگر ساتھ ہی بات چیت اور سفارتی کوششوں پر بھی زور دیا۔

نیوزی لینڈ نے امریکی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا مگر واضح مذمت نہیں کی۔ وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ مزید کشیدگی سے گریز ضروری ہے اور مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری سے ممکن ہے۔

مزیدخبریں