ٹرمپ کی ایران پر فضائی کارروائی کو امریکی اخبار نے ‘جوا’ قرار دے دیا

06:38 PM, 22 Jun, 2025

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہفتے کے روز ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات پر کیے گئے حملے کو عالمی میڈیا ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ قدم قرار دے رہا ہے، جس کا مقصد ایک ایسے متنازع جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے جو برسوں سے امریکی صدور کے لیے دردِ سر بنا ہوا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں کسی نئی طویل جنگ سے بچنے کے خواہاں تھے، جیسا کہ وہ خود اور ان کے اتحادی متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو مزید بیرونی جنگوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق، اس حملے کے نتائج صدر ٹرمپ کے سیاسی مستقبل اور خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر ایران کسی بڑے ردعمل سے قاصر رہا تو ٹرمپ اسے اپنی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے — ایک ایسا پیغام جو چین، روس اور دیگر عالمی حریفوں تک بھی پہنچے گا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

تاہم، اگر تہران مذاکرات کے بجائے ردعمل کی راہ اپناتا ہے، تو ٹرمپ کا یہ بیان کہ "ابھی بھی کئی اہداف باقی ہیں"، خطے میں ایک طویل اور پیچیدہ تنازع کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ایک بڑا یو ٹرن بھی ہے، خاص طور پر ان کے لیے جنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز عراق جنگ کی مخالفت سے کیا تھا۔ وہ ماضی میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو ایسی جنگوں سے اجتناب کرنا چاہیے جن میں نہ صرف مالی وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ امریکی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت پر زور دے رہے تھے، جس سے ان کی جماعت کے بعض سخت گیر عناصر نالاں تھے۔ تاہم ہفتے کی شب امریکی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے خفیہ اور دور مار حملے نے یہ سفارتی ماحول مکمل طور پر بدل دیا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتہ کی رات وائٹ ہاؤس سے قوم سے مختصر خطاب میں تصدیق کی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، اور یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کارروائی میں زمینی فوج بھی شریک تھی یا نہیں۔

اس اہم موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیث بھی موجود تھے۔

مزیدخبریں