واشنگٹن : امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک نیا اور چونکا دینے والا عوامی سروے سامنے آیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اور ایپسوس (Ipsos) کی جانب سے 17 سے 19 مارچ تک کیے گئے اس سروے نے امریکیوں کے خدشات اور جنگ مخالف جذبات کی عکاسی کر دی ہے۔
سروے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں بڑے پیمانے پر زمینی حملے کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم وہ خود اس کے حق میں نہیں ہیں۔65 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف ایک بڑی زمینی کارروائی کا آغاز کر دیں گے۔
سروے کے مطابق مجموعی طور پر 59 فیصد امریکی ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کے سخت خلاف ہیں۔ 55 فیصد امریکیوں نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی مکمل مخالفت کی ہے۔
حیران کن طور پر، ایران کے خلاف براہِ راست بڑی فوجی کارروائی کے حامیوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ صرف 7 فیصد امریکیوں نے ایران میں بڑی زمینی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ البتہ 34 فیصد امریکیوں نے اس خیال کی حمایت کی ہے کہ ایران میں 'اسپیشل فورسز' (Special Forces) کو مخصوص اہداف کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی نقل و حرکت عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 59 فیصد امریکیوں کا جنگ کے خلاف ہونا صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی عوام کی اکثریت کسی نئے اور طویل مدتی فوجی تصادم کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ٹرمپ کا ممکنہ ایران پر حملہ: 65 فیصد امریکیوں کو زمینی جنگ کا خطرہ، عوامی اکثریت فوجی مہم جوئی کی مخالف
01:18 PM, 22 Mar, 2026