سانحہ خضدار ناقابل برداشت، بھارت کی پراکسیز باز آجائیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

01:32 PM, 22 May, 2025

نیوویب ڈیسک

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں سانحہ خضدار پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا، جس میں معصوم بچیوں کی شہادت پر دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کی، جبکہ سینیٹر شہادت اعوان نے دعا کروائی۔

سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی جانب سے سانحہ پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی گئی، جو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لی۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خضدار حملہ ناقابل برداشت ہے، اور بھارتی پراکسیز کو باز آ جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا، جہاں ہم نے کھلے دل سے ہزاروں افراد کو داخل ہونے دیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق دہشتگردی کا خاتمہ پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے حالیہ دورے میں بھی دہشتگردی اہم ایجنڈا رہا۔

اجلاس میں انہوں نے "پاکستان-افریقہ دوستی دن" منانے کی قرارداد بھی پیش کی، اور کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کی آزادی اور امن کوششوں کا حامی رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

سینیٹر بیرسٹر علی ظفر 

سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت معصوم بچیوں کے قتل جیسے واقعات میں ملوث ہے، اور پاکستان نے ہمیشہ اس کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔

سینیٹر عرفان صدیقی

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور تربیت فراہم کر رہا ہے، اور پاکستان نے ہر میدان میں اس کے حربوں کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

سینیٹر شیری رحمان

سینیٹر شیری رحمان نے خضدار واقعے کو اے پی ایس حملے جیسا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف سخت اور بے رحم کارروائی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ فراہم کر رہا ہے، اور پاکستان کو ہر سطح پر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ 

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بھارت کی روایتی جنگ میں ناکامی کے بعد اس کی پراکسیز معصوم بچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کا دفاع کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کو سراہا۔

سینیٹر ایمل ولی خان

سینیٹر ایمل ولی خان نے نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اگر واضح پالیسی نہ بنائی گئی تو ایسے واقعات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام پراکسی جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں، اور امن کی پالیسی اختیار کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران اور افغانستان سے براہ راست بات چیت کی جائے اور مفروضوں کی بجائے حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی اے چیئرمین کے متنازع بیان پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا، جس پر چیئرمین سینیٹ نے معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

مزیدخبریں