مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان برسوں پرانی کشیدگی ایک باقاعدہ اور دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ سینیئر تجزیہ کارفواد احمد کے نزدیک اس پسِ پردہ سفارتکاری کو حتمی شکل دینے میں پاکستان کا کردار سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد نے وی لاگ میں بتایا کہ عرب اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے دعوے، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی توثیق، اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی تہران میں غیر معمولی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھل چکی ہے اور اب بات گھنٹوں کے حساب سے حتمی معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پاکستانی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا موجودہ حالات میں تہران کا دورہ محض ایک روایتی دورہ نہیں بلکہ ایک اہم ترین سٹریٹجک مشن ہے۔ وفاقی وزیر محسن نقوی کی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل ملاقاتیں اس بات کی کڑی ہیں کہ پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پورے عمل کو چین کی مکمل تائید حاصل ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے کا نیا سکیورٹی بلاک مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواہاں ہے اور پاکستان اس حکمتِ عملی کا مرکزی نقطہ بن کر ابھرا ہے۔
ان کے نزدیک تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ یکطرفہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کی بڑی ضرورتوں پر مبنی ہے۔
دونوں ممالک فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا مہم روکیں گے تاکہ سفارتی ماحول کو سازگار رکھا جا سکے۔ ایران کی جانب سے یورینیم کی منتقلی یا اسے اپنے ہی اندر تلف کرنے کے فارمولے پر رضا مندی (جس کے لیے تھرڈ پارٹی ممالک ضامن بنیں گے) کے بدلے میں امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرے گا اور اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار اٹھائے گا۔ یہ ایران کے لیے گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کا بڑا موقع ہے۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کے مطابق اس پورے منظرنامے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو واشنگٹن اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بنیادی طور پر اسرائیل کا ایجنڈا تھی تاکہ وہ امریکہ کو ایران سے براہِ راست ٹکرا دے۔ تاہم، اس جنگ میں اسرائیل نے چالاکی سے اپنے میزائل ذخائر کو محفوظ رکھا اور امریکہ کے اہم ترین دفاعی ہتھیاروں اور میزائلوں کا آدھا ذخیرہ استعمال کروا دیا۔ امریکہ کو اب اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ اسرائیل کی جنگ کا بوجھ اکیلے نہیں اٹھا سکتا، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اب اسرائیل کو بائی پاس کر کے ایران کے ساتھ براہِ راست ڈیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز پر اب ایران اور عمان مل کر ایک نیا سکیورٹی لائحہ عمل طے کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے کی خلیجی طاقتیں اب بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی سطح پر سکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کی طرف بڑھ رہی ہیں، جو کہ امریکہ کے بحری اثر و رسوخ کے لیے ایک نئی حد بندی ہوگی۔
اگر یہ معاہدہ اگلے چند گھنٹوں میں طے پا جاتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں پر محیط امریکی تسلط کے متبادل ایک نئے علاقائی توازن کو جنم دے گا۔
پاکستان کے لیے یہ سفارتکاری ایک بہت بڑی جیواکنامک اور جیوپولیٹیکل فتح ثابت ہو سکتی ہے، جس نے ثابت کیا ہے کہ خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کا کردار ناگزیر ہے۔