تحریر: طارق وسیم
قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہو نے جا رہے ہیں ، سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب ،سنی تحریک کے سربراہ حامد رضا، رائے حیدر، رائے حسن، رائے مرتضیٰ، زرتاج گل ، انصر اقبال اور جنید افضل کو نااہل قرار دیا گیا تھا اور پی پی 269 مظفر گڑھ کے علمدار عباس نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
تحریک انصاف نے الیکشنز کا بائیکاٹ کر رکھا ہے سوائے لاہور کے این اے 129 کے جہاں سے ان کے سابق ایم این اے میاں اظہر نے فروری 2024 میں میدان مارا تھا۔میاں اظہر کے انتقال کے بعد یہ نشست خالی ہو گئی تھی ،یہاں سے ان کے صاحبزادے حماد اظہر جو پہلے ہی ایم این اے ہیں ،منظر عام سے غائب ہیں ،الیکشن لڑنا چاہتے تھے لیکن بعد ازاں قرعہ ارسلان کے نام نکلا ،جو اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے حافظ میاں نعمان کے مد مقابل ہیں ۔
یہ واحد حلقہ ہے جہاں سے تحریک انصاف الیکشن میں حصہ بھی لے رہی ہے اور اس نے انتخابی مہم میں حصہ بھی لیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں اس ووٹ پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں ،پی ٹی آئی سمجھتی ہے خاموش ووٹر ان کے امیدوار کے حق میں مہر لگائے گا۔دوسری جانب میاں نعمان کا کہنا ہے کہ وہ فروری 2024 کا الیکشن بھی جیت جاتے لیکن کچھ نادیدہ قوتوں نے میان اظہر مرحوم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ،بظاہر پلڑا مسلم لیگ ن کا ہی بھاری نظر آتا ہے ۔
این اے 18 ہری پور میں سابق اپوزیشن لیڈرعمر ایوب کی نااہلی کے بعد ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے جس میں بابر نواز خان جو ہمیشہ سے عمر ایوب کے مضبوط حریف رہے ہیں ،ان کی اہلیہ شہرناز عمر کا مقابلہ کر رہے ہیں ،عمر ایوب نے یہ الیکشن جیتنے کے لیے کافی تگ و دو کی ہے لیکن سیاسی مبصرین کے نزدیک بابر نواز کی پوزیشن بہتر ہے ،فیصل آ باد کے حلقہ این اے چھیانوے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی ساکھ بھی بہتر ہے ۔ ڈیرہ غازی خان کی نشست این اے185 سے تحریک انصاف کی زرتاج گل نااہل ہوئی تھیں ،اب ان کی جماعت اس الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی۔ پیپلز پارٹی نے دوست محمد کھوسہ کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محمود قادر لغاری ہیں ،دوست کھوسہ نے پولنگ سکیم کو چیلنج کر رکھا ہے ۔ این اے ایک سو چار فیصل آباد میں بھی مسلم لیگ ن کی پوزیشن بہتر نظر آتی ہے ۔ این اے 143 ساہیوال میں مسلم لیگ ن کے طفیل جٹ مضبوط امیدوار ہیں جبکہ صوبائی حلقوں میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال ہے۔
ضمنی انتخابات جیتنے والی جماعتوں کی چند نشستیں ضرور بڑھ سکتی ہیں لیکن اس انداز میں کرایا گیا الیکشن اپنے پیچھے ہمیشہ ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔
سیاسی رہنما کچھ بھی کہیں اور کسی بھی انداز میں سوچیں ،لیکن جب ورکرز اور ووٹرز کسی بات پر ڈٹ جاتے ہیں تو وہ نتائج پرا ثرا نداز ہوتے ہیں لیکن بد قسمتی سے مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف کے ورکرز بھی محبت الیکشن اور حکومت میں سب کچھ جائز سمجھتے ہیں ۔پھر چاہے 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر حکومت بنائی جائے یا2024 میں فارم 47 سے مدد لی جائے ،یہاں جمہوریت کسی کو مطلوب و مقصود نہیں ،یہاں کچھ کو ڈکٹیٹر اچھے لگتے ہیں تو کوئی بادشاہت کو آئیڈیل نظام سمجھتا ہے ۔کسی کو نظام میں خرابی نظر آتی ہے تو کوئی نظام دین کو برائیوں کی جڑ قرار دیتا ہے ، یہاں سب کچھ چلتا ہے ،یہاں سیاست عبادت نہیں بلکہ ایک ایسا دھندہ ہے ،جو بہر حال کافی گندہ ہے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے