پنجاب حکومت کاسوشل میڈیا پر شر انگیزی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا اعلان

07:16 PM, 22 Oct, 2025

لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کے حوالے سے تیسرا غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں ریاستی رِٹ اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے۔

پنجاب حکومت نے لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کو مزید سخت کرنے اور اس کا نفاذ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پنجاب کے ہر ضلع میں وِسل بلور سیل قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایک اور اہم قدم کے طور پر پنجاب حکومت نے انتہا پسند گروپوں اور غیر قانونی طور پر مقیم بین الاقوامی شہریوں کے خلاف پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر خصوصی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر 15 پر کال کر کے اس بارے میں اطلاع دیں۔

انتہا پسند گروپوں کے اشتہارات، تصاویر اور پلے کارڈز پر سخت پابندی عائد کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ مزید یہ کہ غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنے اور مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب میں ڈالا کلچر اور مافیا کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت نے امن کمیٹیوں کو فوری طور پر مزید فعال بنانے اور ان کو جاری آپریشنز میں شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ہر شہری کے دروازے تک موبائل پولیس اسٹیشنز کی سہولت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ کومبنگ آپریشنز اور کارروائیاں صرف انتہا پسند ذہنیت کے خلاف ہوں گی اور ان کا تعلق کسی مذہب یا فرقے سے نہیں ہے۔

صوبے کی تمام ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی بین الاقوامی رہائشیوں کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ اپ ڈیٹ کرے گی۔ ضلعی انتظامیہ کو یہ بھی لازمی ہوگا کہ وہ یہ بتائیں کہ کتنے غیر قانونی رہائشی کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں اور کتنے افراد کو ڈی پورٹیشن کے لیے بھیجا گیا۔

پنجاب حکومت نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی رہائشیوں کو مکان یا دکان کرائے پر نہ دیں، ورنہ کرایہ داری اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف پییکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ پنجاب میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔
 
 

مزیدخبریں