برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد پرتگال کا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان

09:26 AM, 22 Sep, 2025

لزبن / نیویارک :  برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد پرتگال نے بھی فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

پرتگال کے وزیر خارجہ پاولو رینجل نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک بنیادی اور مستقل سوچ کا حصہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور مستقل امن کے لیے صرف دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اگرچہ غزہ میں جاری انسانی بحران کا فوری حل نہیں، تاہم عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس سے قبل برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا بھی فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے فلسطین کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور اسے مشرق وسطیٰ میں امن کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ ان کا ملک فلسطین کو ریاست تسلیم کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ ایک پرامن مستقبل کی تعمیر میں بھرپور تعاون کے لیے تیار ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا حصہ ہے۔ آسٹریلیا نے عندیہ دیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کی گئی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کے بعد فلسطین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے اور سفارتخانہ کھولنے پر غور کیا جائے گا۔
عالمی سطح پر فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے یہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہو چکا ہے اور ہزاروں بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑی مغربی طاقتوں کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں اس انداز سے سامنے آنا ایک نئے بین الاقوامی دباؤ کی شکل اختیار کر رہا ہے، جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر دو ریاستی حل کی طرف سنجیدگی سے بڑھنے کا تقاضا کر سکتا ہے۔

مزیدخبریں