پیانگ یانگ / سیئول: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ ان کے ملک سے جوہری ہتھیار ترک کروانے پر اصرار نہ کرے تو وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق، کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کریں گے۔
اتوار کے روز شمالی کوریا کی سپریم پیپلز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہاذاتی طور پر، اب بھی میری ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھی یادیں وابستہ ہیں۔"
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت نے دوبارہ بات چیت کی آمادگی ظاہر کی ہے، بشرطیکہ جوہری تخفیف پر زور نہ دیا جائے۔
دوسری جانب، جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری ترک کرنے کے بجائے ہتھیاروں کی پیداوار کو منجمد کرنے پر معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
صدر لی نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا ہر سال 15 سے 20 نئے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ حالات میں مکمل جوہری تخفیف ممکن نہیں، اس لیے "پیداوار کی منجمدی ایک زیادہ قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ متبادل ہو سکتا ہے۔"