تحریر : حافظ سید عاصم علی
جب اس کائنات کو تخلیق کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں اور ان کے سردار کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے حکمِ الٰہی کے سامنے سر جھکا دیا، مگر شیطان اکڑ گیا، اس نے سجدہ سے انکار کر دیا۔ اس کا تکبر اور ہٹ دھرمی اسے مردود بنا گئی۔
اسی طرح تاریخ کا دوسرا بڑا سبق قابیل اور ہابیل کا ہے۔ قابیل نے حسد اور خود سری میں اپنے ہی بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ ان دونوں واقعات کا ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بدمعاشی، ہٹ دھرمی اور خود سری کی تعریف ان دو کرداروں نے قیامت تک کے لیے دنیا کو سکھا دی۔آج اسی ابلیسی روش پر خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت چل رہی ہے۔
گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے جس گھٹیا، بازاری اور نازیبا زبان کا استعمال کیا، وہ کسی پٹھان، کسی غیرت مند انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف اور صرف ابلیسی اور شیطانی فطرت کا کام ہے۔ کسی کی ماں، بہن اور بیٹی پر زبان درازی کرنا، خاص طور پر ایک باکردار خاتون لیڈر پر، یہ کسی سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ اپنی گھٹیا نسل اور تربیت کا ثبوت ہے۔
وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کردار پوری قوم کے سامنے روشن ہے۔ مریم نواز شریف نے جس طرح پنجاب کی خدمت کی ہے، جس طرح سرکاری خزانے کی حفاظت کی ہے اور پونے تین کروڑ کا بل اپنی جیب سے ادا کر کے ایمانداری کی مثال قائم کی ہے، وہ مخالفین سے ہضم نہیں ہو رہی۔ جب دلائل ختم ہو جائیں، جب خدمت میں مقابلہ نہ کر سکو تو پھر گالی پر اتر آتے ہیں۔ یہی کام شفیع جان جیسے لوگوں نے کیا۔
یہ کسی فردِ واحد کی بدزبانی تو ہو سکتی ہے، مگر اس کو پوری قوم کا اجتماعی رویہ نہیں کہا جا سکتا۔اصل افسوس تو اس وقت ہوا جب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی کرسی کا تقدس پامال کرتے ہوئے اپنے اس بدزبان وزیر کا دفاع کیا۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنے اس عمل پرپوری قوم سے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے اور وزیرِ اطلاعات پنجاب سے معافی مانگتے، انہوں نے ابلیس سے بھی دو قدم آگے نکلتے ہوئے ایک انتہائی شرمناک بیان دے دیا۔سہیل آفریدی نے کہہ دیا کہ "تمام پشتون بدمعاش ہیں"۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
وزیرِ اعلیٰ صاحب، آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ ایک غیرت مند، بہادر، دین دار اور پاکستان سے محبت کرنے والی قوم کو بدمعاش کہیں؟۔ پٹھان قوم تو وہ ہے جس کی جفا کشی، مہمان نوازی اور غیرت کی مثالیں دنیا دیتی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے اس ملک کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پٹھانوں نے اپنے بچے شہید کروائے ہیں۔ آپ اسی قوم کو اپنے جیسے دو چار بدزبان اور بد لحاظ ٹولے کے ساتھ ملا رہے ہیں؟۔
پٹھان قوم کو بدمعاش کہنے سے پٹھان قوم آپ جیسی نہیں بن جائے گی ،ان کی غیرت تو تاریخ میں لکھی ہوئی ہے۔ آپ اپنے گریبان میں جھانکیں۔آپ کو وہاں غیرت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی کیونکہ لاہور کی سڑکوں پر آپ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مجھے پہچانو میں وزیرِ اعلیٰ ہوں اور آپ کے اپنے وزیر اطلاعات کے اندر کمی ہے جو کسی عورت کی عزت کرنا سکھاتی ہے۔
شیطان نے صرف سجدہ نہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ وہ مقابلے پر اتر آیا تھا کہ میں اپنے جیسوں کا دفاع کروں گا۔ یہی حال آج سہیل آفریدی کا ہے۔ وہ اپنے وزیر کا دفاع کر کے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کی پوری جماعت ہی اسی بداخلاقی کی فیکٹری سے نکلی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر آپ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور عظمیٰ بخاری سے دلائل میں نہیں جیت سکتے تو کم از کم خاموش رہنا سیکھ لیں۔ غیر مہذب اور بدزبانی سے پرہیز کرنا آپ کا ایمانی اور انسانی فرض ہے۔
مریم نواز شریف پنجاب کی بیٹی ہے، اور پنجاب کی بیٹی کی عزت پورے پنجاب کی عزت ہے۔ عظمیٰ بخاری ایک دلیر اور سچی ترجمان ہیں جو آپ کے جھوٹ کا روز پردہ فاش کرتی ہیں۔ ان کے خلاف بولنے سے آپ کی سیاست اونچی نہیں ہوگی، بلکہ آپ کا قد مزید چھوٹا ہو جائے گا۔
پٹھان قوم باشعور ہے، وہ جانتی ہے کہ کون ان کا نام بدنام کر رہا ہے۔ یہ شفیع جان اور سہیل آفریدی جیسے لوگ ہی ہیں جو پٹھان قوم کے نام پر دھبہ ہیں۔ اصل پٹھان تو باکردار اور بااخلاق ہوتا ہے۔
آخر میں اس شعر پر بات ختم کروں گا:
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔